
تہران : ولی امر مسلمین آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ سامراج کا ایران میں تبدیلیوں کی آڑ میں اسلامی جمہوری نظام کو مغرب کی پٹھو یا فرمانبردار حکومت میں تبدیل کرنا اصل ہدف ہے۔ وہ لوگ کسی بھی طرح سے ایران پر سیاسی اور معاشی تسلط حاصل کرنا اور اسے لوٹنا چاہتے ہیں۔ نوروز کے موقع پر مشہد مقدس میں امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس میں زائرین اور مقامی لوگوں کے بڑے اجتماع سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے مضبوط پہلوؤں کی تقویت اور کمزور پہلوؤں اور خامیوں کے خاتمے جیسی تبدیلی کو ملک کی بنیادی ضرورت بتایا۔ انہوں نے کہاکہ کون سا ملک اور کون سا انقلاب ہے جو عشروں تک دنیا کے سب سے طاقتور ملکوں کے لگاتار حملوں کے سامنے ڈٹا رہا اور اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے؟
انہوں نے بغاوت، پابندیوں، سیاسی دباؤ، عدیم المثال تشہیراتی حملوں، سیکیورٹی کے خلاف سازشوں اور عدیم المثال معاشی پابندیوں کو دشمنوں کی مسلسل سازشوں کے کچھ پہلو بتایا اور کہا کہ ان دشمنیوں کے حالیہ مرحلے میں امریکا اور بعض یورپی ملکوں کے سربراہان نے ان ہنگاموں کی، جنھیں بہت ہی معمولی تعداد میں کچھ لوگوں نے شروع کیا تھا، کھل کر پشت پناہی کی اور اسلحہ جاتی، سیاسی، مالی، سیکیورٹی اور میڈیا سمیت طرح طرح کی حمایت اور مدد کی تاکہ اسلامی جمہوریہ کو کم از کم، کمزور ہی کر سکیں لیکن عملی میدان میں اس ہدف کے بالکل برخلاف بات سامنے آئی اور اسلامی جمہوریہ نے اس عالمی سازش پر فتح حاصل کی اور دکھا دیا کہ وہ ٹھوس اور مضبوط ہے۔ انھوں نے دشمنوں کے پوری طرح سے تبدیلی مخالف اہداف اور خواہشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ٹھوس ارادے، قومی خود اعتمادی پر بھروسے، امید اور بصیرت کے ساتھ تبدیلی کا بھاری اور دشوار کام شروع کرنا اور کمزور پہلوؤں کو، جو زیادہ تر معیشت سے متعلق ہیں، نمایاں اور درخشاں پہلوؤں میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیشرفت، نینو اور بائیو ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں دنیا کے برتر ملکوں میں شمولیت اور حفظان صحت، ایرواسپیس، ایٹمی، دفاعی، انفراسٹرکچرل، طبی و معالجاتی مراکز، ریفائنریز اور دیگر میدانوں میں پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ تعلقات کے میدان میں بھی ایران کو الگ تھلگ کرنے کی دشمن کی کوششیں ناکام رہیں اور اسلامی جمہوریہ ایشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو سو فیصد مضبوط بنانے کے ساتھ ہی اب اس علاقے کے اہم ملکوں کے ساتھ سیاسی، معاشی، سائنسی اور تکنیکی رابطوں کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔


































