
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
ہم آج اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ جنگ میڈیا کی جنگ ہے اور ساتھ میں غیر ضروری طور پر آج کا اضافہ کرتے ہیں کہ آج کی جنگ میڈیا کی جنگ ہے۔ نہیں جناب اگر شعور رکھتے ہیں تو یہ سمجھنے میں زیادہ مشکل نہیں ہے کہ جنگ شروع سے ہی میڈیا کی جنگ تھی۔ مغرب کی شروع دن سے پالیسی رہی ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ اسی کو سچ سمجھنے لگیں۔ عورت کی زندگی برباد کرکے اسے مرد کا ملازم بنا دیا اور اسے آزادی کا نام دے دیا گیا۔ اس کو اتنا دہرایا گیا کہ آج ہم بھی اسی کو آزادی سمجھتے ہیں۔ آج مغرب کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور بڑی فرعونیت سے اعتراض اٹھا دیا جاتا ہے کہ اسلام نے غلامی کو ختم نہیں کیا۔ ہماری نوجوان نسل کے کم تربیت یافتہ اور مغرب متاثرین بھی لٹھ لے کر پیچھے لگ جاتے ہیں کہ سوال تو بنتا ہے۔
ان سے یہ پوچھنے والا کوئی نہیں کہ جناب اسلام تو چودہ سو برس پہلے آیا تھا، آپ یہ فرما دیں کہ امریکہ میں غلامی کب ختم ہوئی ہے۔؟ کہا جاتا ہے کہ 1861ء میں، جب فیڈریشن اور جنوب کی ریاستوں کی درمیان خانہ جنگی ہوئی تو اس میں فیڈریشن کی جانب سے غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ یہ بات مکمل سچ نہیں ہے، کیونکہ اس کے بعد بھی وہ نیم غلام ہی رہے بلکہ ان کی حالت مزید ابتر کر دی گئی۔ 1960ء کی دہائی میں افریقیوں کو بنیادی حقوق دیئے گئے۔ جی بنیادی انسانی حقوق سیاہ فاموں کو حاصل نہیں تھے۔ آج امریکہ اور مغرب نے پھندے تبدیل کر لیے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے سنہ 1992ء میں کہا تھا: "امریکی کہتے ہیں کہ ہم انسانی حقوق کے حامی ہیں! ہم کہتے ہیں کہ تم انسانی حقوق کو مانتے ہی نہیں ہو۔ تم امریکا کی بڑی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کے حقوق کو مانتے ہو۔ تم پوری دنیا میں امریکی حکومت کے ناجائز مفادات کو مانتے ہو!”
انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت وہ دلنشین نعرے ہیں، جو اقوام کے وسائل لوٹنے کے لیے مغرب کا ہتھیار ہیں۔ آپ یوکرین میں امریکہ کی تازہ واردات ملاحظہ کریں۔ پہلے اسے جنگ میں دھکیلا گیا، روس سے اس کی دشمنی کو بڑھاوا دیا گیا۔ اسے سبز باغ دکھائے گئے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اب یوکرین کو روس کے نرغے میں چھوڑ کر براہ راست روس سے مذاکرات شروع کر دیئے اور محبت بھرے پیغامات کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ٹرمپ گویا ہوئے کہ ہمارا پانچ سو ارب ڈالر ہمیں ملنا چاہیئے۔ زبان حال کہہ رہے ہیں کہ تم جاو جہنم میں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ جب زیلنسکی کو پیغام ملا کہ ساری معدنیات ہمارے حوالے کرو تو اس نے کہا کہ میں یوکرین کو فروخت نہیں کرسکتا۔ زیلنسکی نے مزید کہا کہ امریکہ اُن کے معدنی ذخائر کا 100 فیصد کنٹرول چاہتا ہے۔ جواب غزل کے طور پر ٹرمپ نے زیلنسکی کو آمر قرار دے دیا۔
یہ سب کچھ فلموں میں دکھائے مناظر کی طرح ہو رہا تھا۔ اب خبر آئی ہے کہ یوکرین نے امریکہ کے ساتھ معدنیات کے حصول سے متعلق ایک معاہدہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ رواں ہفتے منگل کو معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کیے بغیر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بدلے میں یوکرین کو "لڑائی جاری رکھنے کا حق” ملے گا۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ "یوکرینی بہت بہادر ہیں” لیکن "بغیر امریکی پیسے اور عسکری ساز و سامان کے یہ جنگ بہت ہی مختصر وقت میں ختم ہو جانی تھی۔” ہمیں اپنا پیسہ واپس چاہیئے۔ ہم ایک بڑے مسئلے سے نمٹنے میں اُن (یوکرین) کی مدد کر رہے ہیں اور امریکی ٹیکس دہندگان کو اُن کا پیسہ واپس ملے۔ٹرمپ کی ایک بات تو بہت اچھی ہے کہ وہ بتا رہا ہے کہ ہمارے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت نہیں، نہ ہی ہمیں لبرل نعروں کی ضرورت ہے۔ ہمیں وسائل چاہییں اور ہر حال میں چاہیں، یوں اب یوکرین کا پتہ صاف کر دیا گیا ہے۔
آپ اندازہ لگائیں کہ کس طرح دھونس دھاندلی سے وسائل لوٹے جا رہے ہیں۔ زیلنسکی کو اندازہ ہوگیا کہ اگر میں نے ٹرمپ کی بات نہ مانی تو میرا حال بھی قذافی اور صدام جیسا کیا جائے گا۔ تمام وسائل امریکہ کی گود میں ڈالنے کے بعد اب یقیناً زیلنسکی آمر بھی نہیں رہے گا بلکہ جمہوریت کا چمپئن بن جائے گا۔ اب یہی دباو کی کہانی غزہ پر دہرائی جا رہی ہے۔ دھونس، دھمکی اور جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے حل صرف وہی ہے، جو ٹرمپ بیان کر رہا ہے۔ غزہ سے آبادی کا انخلا اور امریکی قبضہ اتنا واضح ظلم ہے کہ کوئی بھی عرب ملک اس کی حمایت کو ظاہراً تیار نہیں ہے۔ پہلے امریکی قبضے کا بیان دیا اور اب آہستہ آہستہ دباو کی دوسری صورتیں سامنے آرہی ہیں۔
ٹرمپ نے ایکس پر ایک تیس سیکنڈ کی ویڈیو اپلوڈ کی ہے، جس میں مستقبل کا غزہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں یوں لگ رہا ہے کہ غزہ کی آبادی کو نکال کر اسے ایک ریزوٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جو ٹرمپ کی ملکیت ہے۔ اسی ویڈیو میں ایک بلند و بالا عمارت دکھائی گئی ہے، جس پر "ٹرمپ غزہ” لکھا ہوا نظر آرہا ہے اور یہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک سنہرا مجسمہ بھی نصب دکھایا گیا ہے۔ اس میں امریکی صدر کو گرل فرینڈ کے ساتھ ڈانس کرتے اور نیتن یاہو کے ساتھ شربت نوش کرتے دکھایا گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں غزہ امریکی قبضے میں ایک عیاشی کے مرکز کے طور پر دکھایا گیا، جہاں اسرائیلی اور امریکی خوش و خرم ہیں اور فلسطینیوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بات صرف ویڈیو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس پر کچھ عملی اقدامات بھی نظر آ رہا ہیں۔
امریکی صدر کے ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ جلد ہی غزہ کے مستقبل پر غور کرنے کے لیے ماسٹر پلانرز اور ریئل اسٹیٹ ڈویلپرز کا ایک اجلاس ہوگا۔ یعنی لوٹ کھسوٹ کا پورا پروگرام تیار ہے۔ ان کا پروگرام تو تیار ہے، کیا اہل فلسطین اسے قبول کریں گے۔؟ غزہ یوکرین کی طرح کسی ڈکٹیٹر کی قیادت میں نہیں ہے۔ یہاں کے زمین زاد موجود ہیں، جو جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔ ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں اور پوری طرح تیار ہیں۔ ویسے برطانوی رُکن پارلیمنٹ شوکت آدم نے اس ویڈیو کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا کہ یہ دیکھ کر خوف آتا ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین شخص ٹرمپ ٹاور کے لیے کسی اور کی زمین چُرانے کو غلط نہیں سمجھتا۔


































