
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
یوکرین میں روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری تناو اور بحران کئی پہلووں سے اسلامی مزاحمتی بلاک سے مربوط ہے۔ اسلامی مزاحمتی بلاک اور اس سے متعلقہ خطے کے ممالک اور گروہوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ مغربی طاقتوں کی مخالفت اور ان کے خلاف محاذ آرائی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغربی طاقتوں نے خطے، عالم اسلام اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف منفی اور نفرت آمیز پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں۔ مغربی طاقتوں میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور آج بھی ان میں ماضی کی طرح استعماری اور استکباری خصلت پائی جاتی ہے اور وہ بدستور صدیوں پرانی استعماری سوچ کی حامل ہیں۔ لہذا تاریخ کا جائزہ لینے سے واضح ہو جاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطے سے متعلق مغربی طاقتوں کے طریقہ کار اور برتاو میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔
دوسری طرف روس میں تاریخ کے دوران بہت اہم اور بنیادی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ اگرچہ خطے اور دنیا سے متعلق روس کی پالیسیوں میں بعض منفی نکات بھی موجود ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم روس اور مغربی طاقتوں کے طرز عمل اور برتاو میں فرق محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگرچہ مقبوضہ فلسطین میں 13 لاکھ روس نژاد یہودی بھی مقیم ہیں لیکن گذشتہ تیس سے چالیس برس کے دوران روس نے زیادہ تر فلسطینیوں کی حمایت کی ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم آج روسی حکومت اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے درمیان ٹکراو کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں روسی حکام نے صہیونی رژیم کو شام کے خلاف جارحانہ اقدامات جاری رکھنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ مسئلہ فلسطین سے متعلق پالیسیاں روس میں رونما ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کی ایک مثال ہے۔
مغرب اور اسلامی دنیا میں جاری محاذ آرائی میں روس نے اسلامی دنیا کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے جو انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ افریقہ سے لے کر ایشیا تک تمام اسلامی ممالک، چاہے وہاں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہو چاہے اہلسنت مسلمانوں کی، میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کے بارے میں شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف مغربی تحقیقاتی اداروں اور تھنک ٹینکس نے بھی کیا ہے۔ لہذا پوری اسلامی دنیا میں یہ مشترکہ احساس پایا جاتا ہے کہ مغرب ان کا دشمن ہے جبکہ ایسا احساس روس کے بارے میں نہیں پایا جاتا۔ ظاہر ہے اسلامی دنیا میں مغرب سے نفرت موجود ہونے اور روس سے نفرت نہ ہونے کی کوئی تو وجہ موجود ہو گی۔
تیسرا اہم نکتہ افریقہ سے لے کر ایشیا تک اسلامی دنیا پر مغربی طاقتوں کا قبضہ اور اثرورسوخ پائے جانے پر مبنی ہے۔ یہ اسلامی خطہ زیادہ تر امریکہ اور مغربی ممالک کی پالیسیوں اور اقدامات سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان نشین خطہ مغربی طاقتوں کی جانب سے شدید دباو کا شکار ہے جبکہ روس کی جانب سے اسلامی دنیا میں تسلط پسندانہ پالیسیاں نہیں پائی جاتیں۔ لہذا اسلامی دنیا میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کے اثرورسوخ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش اور طلب پائی جاتی ہے جبکہ روس کے خلاف ایسی خواہش موجود نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں بھی ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ عالم اسلام، خاص طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک یوکرین کے مسئلے میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اسے مغرب کی مخالفت پر مبنی موقف اختیار کرنا چاہئے۔
مسلمان ممالک کے حکمران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی نظر میں یوکرین میں رونما ہونے والے حالات تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں جن کے خطے اور دنیا پر دور رس اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں لہذا انہوں نے مغرب کے خلاف روس کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوکرین کے مسئلے سے متعلق ایک اور اہم نکتہ خطے کے مختلف مسائل کے بارے میں بعض ممالک کا موقف کھل کر سامنے آنا ہے۔ مثال کے طور پر ترکی اب تک اسلامی مزاحمتی بلاک کی حمایت میں موقف اختیار کرنے سے گریز کرتا آیا ہے۔ یوکرین کے مسئلے میں ترکی نے واضح موقف اختیار کیا ہے اور روس کی مخالفت کرتے ہوئے مغرب کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ البتہ یہ موقف رجب طیب اردگان کی سیاسی ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسا واضح موقف خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے اپنی پوزیشن واضح کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم بھی یوکرین کے مسئلے میں مغرب کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بھی اسلامی مزاحمت کیلئے بہت زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ صہیونی حکمران اگر عقل مند ہوتے تو یوکرین کے مسئلے میں غیر جانبداری یا روس کی حمایت ان کے فائدے میں تھی۔ لیکن انہوں نے مغرب کی حمایت کر کے روس کو اسلامی مزاحمتی بلاک سے مزید قریب کر دیا ہے۔ یہ اس تبدیلی کی علامت ہے جو خطے کی جیوپولیٹیکل فضا میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے حق میں انجام پا رہی ہے۔ آخری نکتہ اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق ہے اور وہ یہ کہ موجودہ حالات نے ایران کو سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کر دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پرسکون انداز میں قدم آگے بڑھا سکتا ہے۔


































