
ترک پارلیمنٹ کی فوج لیبیا بھیجنے کی منظوری،مقصد قومی حکومت کو جنگی سردار‘ خلیفہ حفتر سے بچانا ہے، ترک صدر،صورتحال پیچیدہ ہوجائے گی، امریکا کاانتباہ
سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے، سعودیہ، خلیفہ حفتر کا ترکی کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان، طرابلس اور اطراف میں گزشتہ چند ہفتوں سے حملوں میں شدت آگئی
طرابلس (نیوز ڈیسک) ترکی،سعودی عرب اور لیبیا کے مقامی گروپوں میں لڑائی کی وجہ سے لیبیا نیا میدان جنگ بن گیا، ترکی نے فوج بھیجنے کی منظوری دی تو امریکا نے اس کی سخت مذمت کردی،ترک صدر طیب اردوان نے پارلیمنٹ کی اجازت ملنے کے بعد فوج لیبیابھیجنے کی منظوری دیدی ہے، ترک صدر نے کہا ہے کہ ترکی لیبیا میں مداخلت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی مددکیلئے کر رہا ہے تاکہ اسے جنگی سردار‘ خلیفہ حفتر سے بچایا جا سکے، قومی اتحاد کی حکومت نے ترکی سے نومبر میں معاہدہ کیا تھا جس میں سیکیورٹی تعاون کا وعدہ بھی شامل تھا،اس سے پہلے پارلیمنٹ میں رائے شماری میں 325 ارکان نے ترک فوج لیبیا میں تعینات کرنے کے حق میں جب کہ 184 نے مخالفت میں ووٹ دیا،امریکی صدر ٹرمپ نے پارلیمان کے فیصلے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کو فون کیا اور ان سے کہا کہ وہ لیبیا میں کسی مداخلت سے باز رہیں کیوں کہ اس سے لیبیا کی صورت حال پیچیدہ ہو جائے گی،سعودی عرب نے لیبیا میں ترکی کی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیا ہے،یونانی وزیرِ اعظم کریاکس متسوتاکس، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں افواج کی تعیناتی ’خطے میں امن کے لیے ایک خطرہ ہے، ادھر خلیفہ حفتر نے ترکی کے افواج تعینات کرنے کے قانون کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا ہے خلیفہ حفتر نے مردوں اور خواتین سمیت تمام عوام سے ’اکھٹے ہونے‘ اور تمام اختلافات بھلا کر ترک افواج کے ملک میں داخلے کے خلاف کھڑے ہونے کی درخواست کی، ادھرطرابلس اور اطراف میں گزشتہ چند ہفتوں سے حملوں میں شدت آگئی ہے جبکہ حکومت ترکی کے درمیان معاہدوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔


































