
تحریر: محمد علی زادہ
جیسے جیسے آئندہ برس مئی میں ترکی کے صدارتی الیکشن سے قریب ہو رہے ہیں، ملک کی داخلہ اور خارجہ سیاست میں رجب طیب اردگان کی فعالیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ گذشتہ چند برس میں ترکی کو درپیش شدید اقتصادی مشکلات کے پیش نظر رجب طیب اردگان نے بھی اپنی فعالیت کا مرکز معیشت کو بنا رکھا ہے اور وہ عوام کی ناراضگی کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ لیکن اقتصادی مسائل کے ساتھ ساتھ خارجہ تعلقات بھی ان کی توجہ کا اہم مرکز ہیں کیونکہ اس طرح وہ بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ بھی ہموار کر سکتے ہیں اور یوں ایک تیر سے دو نشانے لگا سکتے ہیں۔ لیکن سیاست خارجہ اور دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات کے میدان میں جو چیز عالمی توجہ کا زیادہ مرکز بن چکی ہے وہ ترکی کی جانب سے شام سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش ہے۔ ایسا ملک جو چند سال پہلے ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔
انٹیلی جنس رابطوں کے ذریعے دوطرفہ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش
اگرچہ گذشتہ چند ماہ کے دوران مختلف حلقوں نے ترکی اور شام کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کی بات کی ہے اور اس بارے میں تازہ ترین اظہار خیال ترکی کے صدر نے کیا ہے، لیکن ترکی اور شام کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں چند سال پہلے سے شروع ہو چکی تھیں۔ تقریباً تین سال پہلے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ترکی اور شام کے اعلی سطحی انٹیلی جنس عہدیداروں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوئے۔ اس نشست کے بعد فریقین نے گفتگو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ترکی اور شام کے صدور مملکت سے بات چیت کے بعد ترک انٹیلی جنس ایجنسی میت کے سربراہ ہاکان فیدان اور شام انٹیلی جنس سربراہ جنرل علی مملوک کے درمیان ملاقات انجام پائی۔
اسی وقت سے انقرہ اور دمشق میں تعلقات معمول پر آنے کی باتیں شروع ہو گئی تھیں جبکہ اس دوران مختلف سطح کے حکومتی عہدیداروں کے درمیان ملاقاتیں بھی انجام پا چکی ہیں۔ توجہ کی بات ہے کہ ترکی عام طور پر انٹیلی جنس رابطوں کے ذریعے ایسے ممالک سے تعلقات بحال کرتا ہے جن سے اس کے تعلقات سفارتی بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی نے متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے بھی پہلے انٹیلی جنس رابطوں کا سلسلہ برقرار کیا تھا۔ ترکی اور شام کے انٹیلی جنس سربراہان کی حالیہ ملاقات کے بعد ترکی کے وزیر خارجہ اور حتی صدر رجب طیب اردوغان نے بھی شام سے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں دوستانہ تعلقات کی بحالی کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔
سکیورٹی کی برقراری میں انقرہ کی مشکلات
جیسا کہ بیان ہوا، ترکی میں صدارتی الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں لہذا رجب طیب اردگان کی حکومت بھی اندرونی اور بیرونی سطح پر ایک براہ راست سیاسی کامیابی پیش کرنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ یوں اپنے مخالفین کی جانب سے دباو میں کمی لا سکے۔ رجب طیب اردگان جانتے ہیں کہ ایسے حالات میں ہمسایہ ممالک میں سیاسی و سکیورٹی صورتحال خراب ہونا ترکی کے مفاد میں نہیں ہے۔ سیاسی و سماجی سلامتی اقتصادی ترقی پر منحصر ہے اور رجب طیب اردگان کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ صدارتی الیکشن کے قریب ہمسایہ ملک میں سیاسی و سکیورٹی ابتری کے نتیجے میں ترکی بھی بدامنی اور اقتصادی مشکلات کا شکار ہو جائے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ترکی میں بعض دہشت گردانہ کاروائیوں نے ترک حکام کو پریشان کر ڈالا ہے لہذا رجب طیب اردگان شام پر خاص توجہ دے رہے ہیں تاکہ وہاں سے عدم استحکام ترکی منتقل ہونے سے روک سکیں۔
ملک مخالف گروہوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش
انقرہ اس حقیقت کو درک کر چکا ہے کہ پی کے کے اور ڈیموکریٹک فورسز شام میں سکیورٹی خلا اور مغربی ممالک کی حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی کو صدمہ پہنچا رہے ہیں۔ ترکی کے صدر بارہا امریکہ سے شام کے شمالی علاقہ جات میں کرد مسلح گروہوں کی حمایت اور انہیں اسلحہ فراہم کئے جانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس بارے میں رجب طیب اردگان نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ امریکی حکومتیں گذشتہ چند سالوں کے دوران اسلحہ کے ہزاروں ٹرک کرد مسلح گروہوں کو دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام براک اوباما حکومت سے شروع ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ حکومت میں جاری رہا اور اب جو بائیڈن حکومت میں بھی بدستور جاری ہے۔ رجب طیب اردگان جان گئے ہیں کہ گذشتہ چند عشروں میں انہوں نے غلط پالیسی اپنا رکھی تھی لہذا وہ شام سمیت خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
تعلقات کی بحالی کیلئے شام اور ترکی کی شرائط
گذشتہ چند ماہ کے دوران ترکی اور شام نے باہمی تعلقات کی بحالی کیلئے کچھ شرائط کا اعلان کیا ہے۔ انقرہ نے چار شرائط بیان کی ہیں جو ملکی سالمیت کا تحفظ، سیاسی فیصلے کے نتیجے میں استحکام، سرحدوں پر موجود دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ اور شام مہاجرین کی بحفاظت وطن واپسی پر مشتمل ہیں۔ دوسری طرف شام نے بھی کچھ شرائط کا اعلان کیا ہے جیسے: شام سے ترکی فوجیوں کا انخلاء، دہشت گرد گروہوں کی حمایت ختم کرنا، ادلب پر کنٹرول دوبارہ بحال کرنے میں شام حکومت سے تعاون کرنا اور لاذقیہ کو حلب اور شمال کو شمال مشرق سے ملانے والی ہائی وے ایم 4 پر کنٹرول برقرار کرنے میں شام کی مدد کرنا۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران خطے میں تناو پیدا کرنے والے امور میں سے ایک ترکی کی وہ فوجی کاروائیاں ہیں جو وہ شام کے شمال اور مشرق میں انجام دیتا آیا ہے۔ ایران اور شام کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی ان پر اعتراض کرتے آئے ہیں۔


































