
بغداد : عراق پر ترکی کے حملے میں 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔ ترکی کے جنگی طیاروں نے شمالی عراق کے علاقے سنجار پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ ترکی نے صوبہ نینوا میں کردستان لیبر پارٹی کے دہشت گرد عناصر کا تعاقب کرنے کا بہانہ بناتے ہوئے حملہ کیا۔ حملے میں مخمور کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ مخمور کیمپ میں ایزدی مہاجرین رہتے ہیں اور ترکی کا دعوی ہے کہ وہ اس علاقے میں کردستان لیبر پارٹی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے 20 مرتبہ مخمور کیمپ پر حملہ کیا۔
ترکی کی جارحیت پر عراق کی حشد الشعبی کے گروپ عصائب اہل الحق تحریک کے سیکریٹری جنرل قیس الخزالی کا کہنا ہے کہ مزاحمتی جنگجو اس عرب ملک پر ترکی کی تازہ فوجی جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔ قیس الخزالی نے ترکی کی جانب سے عراقی خودمختاری کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انقرہ حکومت شہریوں کو نشانہ بنانے میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ حکومت کی افسوسناک خاموشی کے درمیان، ترک قابض افواج کی طرف سے شمالی عراق میں فوجی اڈے قائم کرنے کے بعد، عراقی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔ صورتحال مزید خراب ہو گئی ہےاور اب عام شہریوں کو جھوٹے دعوؤں اور حیلوں بہانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی مزاحمتی جنگجو ترک افواج کو سخت سبق سکھائیں گے۔ ہم اپنے لوگوں کے خلاف جارحیت، پناہ گزین کیمپ پر بمباری اور بے گھر افراد کے مصائب میں اضافہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ترکی کے وحشیانہ اقدامات کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ اور وقت آنے پر اس سے نمٹا جائے گا۔ ہم انہیں عراقی سرزمین سے انخلاء پر مجبور کریں گے۔


































