
استنبول : سابق وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں ترکی میں بغیر اجازت مظاہرہ کرنے پر 30 پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا۔ مظاہرہ کرنے والوں میں 27 پاکستانی طلبہ اور تین عام شہری تھے جنہیں استنبول کے تکسیم اسکوائر سے اتوار کو حراست میں لیا گیا تھا۔ان پر بغیر اجازت سیاسی سرگرمی اور مظاہرہ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور پولیس اسٹیشن میں رکھنے کے بعد اگلے دن پاکستان واپس بھیجنے کے لیے ڈیپورٹیشن سنٹرز میں لے جایا گیا تھا ۔ گرفتاری کے بعدطلبہ کے والدین اور اہلخانہ نے پاکستانی قونصل خانے سے رابطہ کرکے بتایا کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے اور معصومیت میں مقامی قانون کی خلاف ورزی کر دی ہے ان کو ڈی پورٹ ہونے سے بچایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ تین شہریوں کی ترکش خواتین سے شادی بھی ہو چکی تھی اور ان کے اہل خانہ ان کی پاکستان واپسی نہیں چاہتے تھے۔ گرفتار افراد کو رہا تو کر دیا گیا ہے مگر قوانین کے مطابق ان کے نام مانیٹرنگ لسٹ میں شامل کر دیےگئے ہیں جس سے مستقبل میں ان کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔


































