
تحریر: جاوید اقبال غندوسی
چھیاسی سالہ پیرِ جماران مگر بلند ہمت اور جوان مرد یعنی حضرت امام خمینی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ہمیں امریکہ کی دشمنی سے نہیں بلکہ اس کی دوستی سے ڈرنا چاہیئے۔ یوکرائن کا امریکہ اور مغربی ممالک پر اعتماد کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ایک ہنستا بستا ملک اُجڑ گیا، وہاں انرجی کا سخت بحران پیدا ہوا، یہاں تک کہ صدر کے انٹرویو کے دوران بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور پورے اسٹوڈیو میں گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے۔ یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یوکرائن میں انرجی کا بحران کس حد تک خوفناک صورتِ حال اختیار کرچکا ہے، کیونکہ کوئی بھی ملک کم از کم صدر کے انٹرویو کی حد تک کام کرنے کے لیے جنریٹر سمیت مختلف وسائل کا استعمال کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ نہیں ہونے دیتا۔
اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ یوکرائن بظاہر اپنی سرزمین، جس پر روسی افواج کا قبضہ ہوچکا ہے اور اسلحہ سے ہاتھ اٹھانے کی بات کر رہا ہے۔ اتنی ذلت و رسوائی کی اس دور میں کوئی مثال نہیں ملتی، بالخصوص ایسی صورتِ حال میں جب اس ملک کو سپر طاقت سمجھے جانے والے ممالک کی حمایت حاصل ہو۔ یوکرائن ان تمام ممالک کے لئے درس عبرت ہے، جو دن رات امریکہ اور یورپ کے گُن گاتے نہیں تھکتے، یہاں تک کہ شیطانِ بزرگ کے صدر کو امن کے پیغمبر جیسے القاب سے نوازنے سے بھی نہیں کتراتے۔
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
یہ انجام صرف یوکرائن کا نہیں بلکہ ہر اُس ملک کا ہے، جو امریکہ و یورپ پر اعتماد کرتا ہے۔ امریکہ نے جس جس ملک میں اپنے نجس قدم رکھے، اُس ملک کو اُجاڑ کر ہی سُکھ کا سانس لیا۔ عراق کے صدام سے لے کر لیبیا کے معمر القذافی اور دیگر کئی ممالک کے رہنماء ہمارے سامنے امریکہ سے دوستی کا خمیازہ بھگتتے ہوئے نشانِ عبرت بنے ہیں۔ لہٰذا عقلمندی اسی میں ہے کہ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنی امریکہ دوستی کی پالیسی پر نظرِثانی کریں اور ہمسایہ ممالک، بالخصوص چین، روس اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے پر توجہ دیں، کیونکہ اب طاقت کا توازن بھی مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔


































