امریکی صدر کو ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں کانگریس سے منظوری لینا پڑے گی، سینیٹ میں بھی قراردادمنظور،ٹرمپ کی پارٹی کے 8سینیٹرز بھی باغی ہوگئے
جارحیت میں ملوث امریکی فوجیوں کو واپس بلانا پڑے گا،قراردادکا متن، ہم ایران کیخلاف ٹھیک عمل کر رہے ہیں اور یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں،ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی سینیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صدر کے ایران کے خلاف جنگ کے اختیارات محدودکردئے،اب امریکی صدر کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرسکیں گے،اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کے حق میں 55 جبکہ مخالفت میں 45 ووٹ ڈالے گئے،ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے 8سینیٹرز نے بھی قراداد کے حق میں ووٹ دیا،، قرارداد کے مطابق امریکی صدر کو ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں کانگریس سے منظوری لینا پڑے گی اور جارحیت میں ملوث امریکی فوجیوں کو واپس بلانا پڑے گا،امریکی صدر ٹرمپ نے ایسی کسی بھی قرارداد پر ووٹنگ سے خبردار کیاتھا اور وائٹ ہاؤس نے قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے، ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ بات ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے کہ ہماری سینیٹ ایران کے خلاف جنگ سے متعلق صدر کے اختیارات میں کمی کا بل پاس نہ ہونے دے، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم ایران کے مقابلے میں ٹھیک عمل کر رہے ہیں اور یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں،امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پیلوسی نے کہا تھا کہ کانگریس کے ارکان کو ایران کے ساتھ دشمنی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے فیصلوں کے بارے میں فوری اورٹھوس تشویش لاحق ہے،امریکی کانگریس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلائی اور میزائلی پروگرام کے درمیان تعلق پر مبنی ٹرمپ حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا ہے، واشنگٹن کے پیس تھنک ٹینک نے امریکی کانگریس کے شعبہ تحقیقات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ بین البراعظمی بیلسٹیک میزائلی پروگرام اور خلائی پروگرام میں شباہت کے باوجود ایران کی خلائی کوششوں اور میزائلی پروگرام میں کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے بین البراعظمی میزائلی توسیعی پروگرام نہیں شمار کیا جا سکتا۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- ٹرمپ کو بڑا دھچکا،ایران کیخلاف جنگ کا اختیار محدود
ٹرمپ کو بڑا دھچکا،ایران کیخلاف جنگ کا اختیار محدود
-
Ilyas - فروری 21, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 19
- 0 minute read


































