
پیرس: فرانسیسی عدلیہ نے صمود فلوٹیلا میں شامل فرانسیسی رضاکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد پر جنگی جرائم کا مقدمہ شروع کردیا۔ فرانسیسی قومی انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹرز کے دفتر کے مطابق یہ تحقیقات وزارت خارجہ کی جانب سے ریفرل کے بعد شروع کی گئی ہیں، جس میں اسرائیلی حکام پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ غزہ جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں کے ساتھ دوران حراست تشدد اور غیر انسانی سلوک کیا۔ رضاکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حراست کے دوران سخت اور ذلت آمیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کچھ افراد نے جسمانی اور جنسی ہراسانی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ رضاکاروں کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ عصمت دری، تشدد اور تذلیل کے الزامات پر اپنے مؤکلوں کی جانب سے علیحدہ شکایت درج کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعض رضاکاروں نے حکام سے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکام غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی کارروائیوں کی حمایت کرتی ہے۔


































