
استنبول: گلوبل صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں نے اسرائیلی حراست کے دوران تشدد، جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ کینیڈا نے کہا ہے کہ اسے اپنے شہریوں کے ساتھ ہولناک بدسلوکی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ جرمنی اور اسپین نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے متعدد شہری زخمی ہوئے۔ فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق حراست کے دوران کم از کم پندرہ جنسی زیادتیوں کے واقعات پیش آئے جبکہ متعدد رضاکاروں نے مارپیٹ اور غیر انسانی سلوک کی شکایات بھی کیں۔ بیش تر رضاکاروں کی حالت انتہائی خراب، اسرائیلی تشدد سے جسموں پر نیل، کئی افراد چلنے کے قابل نہیں، انہیں وہیل چیئرز پر لایا گیا۔
فرانسیسی کارکن مریم حدجل نے پیرس پہنچنے پر صحافیوں کو بتایا کہ انہیں جنسی تشدد اور جسمانی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ تھپڑ مارے گئے پسلیوں پر گھٹنے مارے گئے اور بال کھینچے گئے۔ اطالوی صحافی الیساندرو مانتووانی نے حراستی مرکز کو خوف اور دہشت کی جگہ قرار دیا اور کہا کہ حراست میں لیتے ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، محدود خوراک اور پانی دیا گیا۔ برطانوی کارکن رچرڈ جوہان اینڈرسن نے استنبول پہنچنے پر کہا کہ انہیں تشدد، اذیت اور غیرانسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور یہ فلسطینیوں کی روز مرہ زندگی کی ایک جھلک تھی۔


































