
تحریر: علیرضا تقوی نیا
اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے۔ اس سلسلے میں چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے: جنگ بندی اور صلح میں فرق ہوتا ہے۔ جنگ بندی کا مطلب ہے دونوں فریقوں کے درمیان فائر بندی اور حالات کسی بھی لمحے بدل سکتے ہیں اور جنگی حالات میں واپس آسکتے ہیں۔ رہبر انقلاب امام خامنہ ای نے ٹرمپ کے ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے اور اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے مطالبے کے جواب میں فرمایا تھا: کوئی مسلط کردہ صلح قابل قبول نہیں ہے۔ کیا آج ایران نے ہتھیار ڈال دیئے، جیسا کہ ٹرمپ نے کہا تھا۔؟ ایران نے گذشتہ رات قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا اور آج صبح مقبوضہ فلسطین کے کئی مقامات کو بھی نشانہ بنایا۔ جس دن جنگ شروع ہوئی، نیتن یاہو نے اس جنگ کے بعد اسلامی جمہوریہ کی مکمل تباہی اور سیاسی نظام میں تبدیلی کے بارے میں کھل کر بات کی۔ یہ بیان نہ صرف سچ ثابت نہ ہوا بلکہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ عوام کا اتحاد اور یکجہتی روز بروز بڑھتی گئی اور حکومت مزید طاقتوں ہوگئی ہے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کو توقع تھی کہ ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا اور وہ مذاکرات میں اپنی شرائط مسلط کرے گا، لیکن یہ مطالبہ نہ صرف تسلیم نہیں کیا گیا، بلکہ ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعاون کی معطلی کو ایجنڈے پر رکھا گیا۔ اب ایران نے نہ تو اپنا جوہری پروگرام ترک کیا ہے اور نہ ہی اس کی جوہری تنصیبات کو ختم کیا جا سکا ہے۔ یقیناً اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایرانی تنصیبات کو کسی حد تک نقصان پہنچا ہے، لیکن جس اہم نکتے پر توجہ دینی چاہیئے، وہ ایران کے 400 کلوگرام یورینیم کے ذخائر کا محفوظ رہنا ہے اور یہ ڈیٹرنٹ، افزودگی کے آلات کے ساتھ، ابھی تک اسلامی جمہوریہ کے دسترس میں ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب جنگ میں کسی ایک فریق کی فتح یا شکست کی بات آتی ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جنگ شروع کرنے والے کے اعلان کردہ مقاصد کیا تھے۔؟
ایران نے اپنے قومی تشخص اور سلامتی کے دفاع پر زور دیا اور جارح کو سزا دینا چاہی، جبکہ اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ کی تباہی، اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خاتمے پر زور دیا۔ اب اگر ہم معاملات کو منصفانہ طور پر دیکھیں تو کون سا فریق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔؟ اس جنگ کے بعد ایران نے کافی تجربہ حاصل کیا ہے۔ جنگ اور سیاست دونوں میدانوں میں اور یقینی طور پر اپنی طاقت کو دوبارہ بنانے اور جنگ بندی کے آغاز سے موجودہ کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس جنگ کے بعد صیہونی حکومت کی اندرونی صورتحال انتشار کا شکار ہو جائے گی۔ نیتن یاہو کو ان کی کارکردگی اور کمزوریوں کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا اور جواب دینا ہوگا کہ اسرائیل، اسلامی جمہوریہ کو کیوں تباہ نہیں کرسکا۔؟ ایران کے ایٹمی پروگرام کو کیوں تباہ نہیں کرسکا۔؟ ایران نے آخری دم تک اپنے مہلک میزائل داغنے کا سلسلہ کیوں جاری رکھا اور۔۔۔۔۔۔
اب ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں نہیں ہے (عارضی طور پر ہی سہی) اور اسلامی جمہوریہ کے ایٹمی منصوبے کے دشمنوں کے پاس اس کے بارے میں کم از کم ابھی کچھ معلومات نہیں ہیں۔ جنگ بندی کے اس موقع کے دوران ایرانی قوم کی طرف سے مطلوبہ ڈیٹرنس حاصل کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل اس جنگ سے بہتر نتیجہ حاصل کرسکتے تھے، تو وہ بلاشبہ حتمی فتح حاصل کرنے تک اسے جاری رکھتے اور جنگ بندی پر مجبور نہ ہوتے۔


































