
ہر کام سے پہلے سوچئے۔۔کس کے لئے کررہے ہیں۔
ہمارے پڑوسی ہمارے مالک مکان ہیں۔ بالکل دیوار بہ دیوار اور صحن بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے صحن میں ایک درخت ہے جس کی شاخیں ان کے گھر تک بھی جاتی ہیں۔ مالک مکان اپنے اس درخت کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ اتنا کہ شروع کے سالوں میں اپنے گھر سے ہمارے صحن میں پائپ لٹکایا کہ ہم خود پانی دیا کریں گے ہمیں کرائے داروں پہ اطمینان نہیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد پائپ میں سوراخ ہوگیا اور انہیں ہٹانا پڑا۔ پھر ہر کچھ عرصے بعد دروازے پہ آکر ہمیں یاد دہانی کراتے کہ ضرور پانی دیا کرو۔ بعض دفعہ ڈانٹتے کہ آپ لوگ کیوں پانی نہیں دیتے اور ہمیں انہیں اطمینان دلانا پڑتا کہ ہم دیتے ہیں۔
میں جب بھی درخت کو پانی دیتی تو یہ سوچ کر دیتی کہ کاش یہ پانی کی آواز ان تک پہنچے۔ کاش ابھی وہ بھی صحن میں ہوں اور یہ آواز سن لیں۔
ایک دن مجھے ہوش آیا۔
دل میں سوچا میرا درخت کو پانی دینے کا مقصد انہیں سنوانا ہے؟
ہر کام خدا کے لیے ہونا چاہیے تو یہ پانی دینا۔۔۔ میں ہر بار انہیں سنوانے کے لیے کیوں دیتی ہوں۔
میں نے ذہن جھنجھوڑا۔ سوچ کو نئی جہت دی۔ نیت کو خدائی کیا اور دل ہی دل میں کہا
خدایا! یہ درخت تیری مخلوق ہے یہ پیاسی نہ رہے ۔میں پانی دے رہی ہوں کیونکہ اس درخت کا حق ہے کہ اسے پانی ملے میں اس کا حق ادا کر رہی ہوں کہ روز قیامت میری گردن پر کسی کا حق باقی نہ ہو۔
واقعا "عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔”
پہلی نیت سے جو پانی دیتی تھی شاید مجھے ثواب نہیں ملتا لیکن اب اس نیت کے ساتھ۔۔۔یہ کام نیکی بن گیا۔ انشاءاللہ خدا قبول کرے۔


































