
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ خلیج فارس میں امریکیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس کے پانیوں کی تہہ میں ہوں۔
خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایک پیغام میں ولی امر مسلمین آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر روشن ہوگا۔ خطے کے عوام کی ترقی، سکون اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔ تہران اور خلیجی ہمسایہ ممالک کا مقدر مشترکہ ہے۔ آج، خطے میں دنیا کی سب سے بڑی مہم اور جارحیت کے دو ماہ بعد اور امریکا کی اپنے منصوبے میں شرمناک ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نیا باب ابھر رہا ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز صدیوں سے بہت سے شیطانوں کی لالچ کا مرکز رہی ہے ۔ انہوں نے خطے میں عدمِ تحفظ کا ذمہ دار امریکی فوجی موجودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد کی کارروائیوں نے خطے کو غیر محفوظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے خطے میں عدمِ تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ یہ اڈے اپنا تحفظ نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا کے کٹھ پتلی اڈوں میں خود اپنی سلامتی کی صلاحیت نہیں، تو وہ اپنے حامیوں کو کیا تحفظ فراہم کریں گے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا سختی سے دفاع کرے گا، جو امریکی صدر کی جانب سے انہیں ختم کرنے کی خواہش کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ولی امر مسلمین کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام ان صلاحیتوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں اور ان کی حفاظت ایسے کریں گے جیسے اپنی پانی، زمین اور فضائی سرحدوں کی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا-اسرائیل جنگ کے بعد ایرانی عوام نے اپنی آنکھوں سے ایرانی افواج کی ثابت قدمی، چوکسی اور بہادرانہ جدوجہد کے خوبصورت مظاہر دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے خطے کی قومیں جو کئی سالوں سے غنڈوں اور جارحین کے سامنے اپنے حکمرانوں کی خاموشی اور ذلت کی عادی تھیں، گزشتہ ساٹھ دنوں میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے عوام کے شانہ بشانہ استقامت، ہوشیاری اور دلیرانہ جدوجہد کے حسین مظاہر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔


































