
تہران : ایک عبرانی میڈیا نے لکھا ہے کہ ہم جنوبی لبنان میں ایک اسٹریٹیجک جال میں پھنس گئے ہیں اور حزب اللہ کے حملے روکنے کا کوئی جادوئی راستہ نہیں ہے.
ارنا کے مطابق روزنامہ یوروشلم پوسٹ نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائيلی فوج کو اعتراف ہے کہ حزب اللہ کے حملے روکنے کا کوئی جادوئی راستہ نہیں ہے۔ اس دوران روزنامہ اسرائيل ہیوم نے بھی لکھا ہے کہ لبنان کے تعلق سے اسرائيلی فوج کی مایوسی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اخبار لکھتا ہے کہ حزب اللہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے جو اسٹریٹیجک آپریشن شروع کیا گیا تھا، وہ اسرائیل کے خلاف اسٹریٹیجک آپریشن میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ شمالی محاذ پر جنگ دشوار سے دشوار تر ہوتی جارہی ہے۔ اسرائيل ہیوم نے ایک اسرائيلی سیکورٹی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہم جنوبی لبنان میں ایک اسٹریٹیجک جال میں پھنس گئے ہیں جہاں پسپائی کا مطلب شکست قبول کرنا ہے اور ٹرمپ ہمیں آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ صیہونی اخبار لکھتا ہے کہ ڈرون طیاروں کے معاملے میں ٹیکٹیکل ناکامی کے ساتھ ہی یہ ایک اسٹریٹیجک شکست ہے جو ہمارے تکبر اور اس یقین کا نتیجہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے حزب اللہ کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے عبرانی روزنامے معاریو کے تجزیہ نگار اشکنازی نے لبنان سے فوجی دستوں کے انخلا کو صحیح اقدام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام ان فوجی دستوں کو حزب اللہ کا آسان ہدف بننے سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔


































