
تہران : ایرانی صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ اسلامی انقلاب خدائی طاقت کے ہاتھ کے ظہور کا ثمر تھا جسے ایرانی قوم نے تاریخ میں رقم کرکے دنیا کو حیران کر دیا اور اسلامی نظام اب بھی نہ مشرق، نہ مغرب کے نعرے پر قائم ہے۔ انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر تہران میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ اسلامی انقلاب میں ایرانی قوم نے دنیا کی دعویدار تہذیبوں اور پولرائزیشن کے مقابلے میں مذہب کے نام سے ایک نئی تہذیب کی تشکیل دی جس میں انصاف، آزادی اور ظلم کے خلاف مزاحمت اور کسی بھی ظلم سے انکار سب سے اہم نعرے تھے جن میں سے کوئی بھی متروک نہیں ہوا۔ انہوں نے اسلامی نظام اور مذہب کو انقلاب اسلامی کے شناختی عناصر میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ عصری انسانی زندگی کے میدان میں مذہب اس بات کو چاہتا ہے کہ تمام چیزیں دینی تعلیمات کی بنیاد پر پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو مغرب سے کوئی امید نہیں۔ وہ سیاسی اور اقتصادی آزادی کے حصول کے لیے صرف اور صرف ایرانی عوام پر انحصار کرتا ہے۔ صدر رئیسی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ویانا میں جاری مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ وہ ملک اور اس کی معیشت کو ان کے نتائج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔


































