
نیویارک : اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 3 سے5 ہزار دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں۔ سیکیورٹی کونسل کو ارسال کی گئی رپورٹ میں افغانستان میں طالبان کے حکومت میں آنے اور اس کے بعد شدت پسندوں کی افغانستان میں سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والی انالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشن مانیٹرنگ ٹیم نے تیار کی ہے جس میں جولائی سے دسمبر 2021 تک ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔گزشتہ ہفتے ارسال کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ یا ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) کے جنگجو افغانستان میں چین کی سرحد کے قریب صوبے بدخشاں سے بغلان، تخار اور دیگر صوبوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ ان تنظیموں کے شدت پسندوں کی تعداد رپورٹ میں 200 سے 700 ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تنظمیوں کے شدت پسندوں کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہے اور اس کا بنیادی مقصد پاکستان اور تاجکستان سمیت خطے میں چین کے مفادات کو نشانہ بنانا ہے۔ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے تین ہزار سے 5500 جنگجو موجود ہیں۔ اس تنظیم کے جنگجوؤں کی قیادت نور ولی محسود کر رہے ہیں۔


































