
واشنگٹن : معروف اخبارات نیویارک ٹائمز اور گارڈین نے غزہ میں پچھلے سات ماہ سے جاری جنگ میں صیہونی حکومت کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے ثبوت پیش کئے ہیں۔ امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے سات ماہ کے بعد بھی حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار نہ صرف ایک مضبوط ارادے والے اور طاقتور کمانڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں بلکہ ایک ہوشیار مذاکرات کار بھی ثابت ہوئے ہیں جس نے اسرائیل کے جنگ جیتنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ امریکی اخبار کا مزید کہنا ہے کہ یہ حقیقت کہ سنوار کا غزہ میں جنگ کے 7 ماہ بعد بھی زندہ رہنا خود اس جنگ میں اسرائیل کی شکست کی واضح علامت ہے۔ جب کہ اسرائیلی اب تک اسے قتل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اب وہ بالواسطہ طور پر ہی سہی ان سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہیں۔ نیویارک ٹائمز کا مزید کہنا ہے کہ جب وہ صیہونی حکومت کی جیل میں تھا، اس نے عبرانی زبان سیکھی اور صیہونی ثقافت اور معاشرے کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کیا۔ وہ اس وقت ان معلومات کو صیہونی معاشرے کی خلیج کو بڑھانے اور وزیر اعظم نیتن یاہو پر دباؤ قائم رکھنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
انگریزی اخبار گارڈین نے بھی صیہونی فوج کی حماس کو تباہ کرنے میں ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے باہر تنہائی کا شکار ہے اور داخلی طور پر بھی انتشار سے دوچار ہے۔
جنگ کو سات ماہ سے بھی زیادہ عرصہ طول دینے کے باوجود حماس کو تباہ نہیں کیا جاسکا، اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ فلسطینی مزاحمتی فورسز اسرائیلی قیدیوں پر اب بھی کنٹرول رکھتی ہیں، جن کی حالت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے اور وہ اسیری میں مر رہے ہیں۔ گارڈین نے زور دے کر لکھا کہ اسرائیلی فوج کا یہ اندازہ کہ اس جنگ میں 10 ہزار سے 14 ہزار فلسطینی مجاہدین مارے گئے، انتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ تمام شواہد غزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جب کہ فتح حاصل کرنے کے لئے اسرائیلی فوجی غزہ میں ہر روز مرتے ہیں۔


































