
فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سرپرست اراکین بشمول جماعت اسلامی کے مسلم پرویز، سابق اراکین سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، میجر (ر) قمر عباس، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صدر علامہ باقر زیدی، جمعیت علماء پاکستان کے صدر علامہ قاضی احمد نورانی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ارشد نقوی، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما سید طارق حسن، پاکستان مسلم لیگ نواز کے پیر ازہر ہمدانی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما یونس بونیری، جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا قاری عثمان، جعفریہ الائنس کے رہنما شبر رضا، شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ ناظر تقوی، پائیلر کے چیئرمین کرامت علی، کشمیری رہنما بشیر سدوزئی، ہیومن رائٹس کونسل کے جمشید حسین، خاتون رہنما عرم بٹ، نسرین میمن، ریحانہ عزیز اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے اپنے مشترکہ بیان میں پاکستانی وفد کے اسرائیل دورہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس دورہ کو پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے۔
فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنماؤں نے کہا کہ مسلسل پے در پے پاکستانی وفود کی اسرائیل یاترا حکومت کی نا اہلی اور حکومت کے اسرائیل سے خفیہ روابط کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کل قطر میں وزیراعظم شہباز شریف کی موساد رہنماؤں سے ملاقات سے متعلق بھی کسی قسم کی حکومتی تردید کا نہ آنا حکومتی بدنیتی کو آشکار کرتا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اہم عہدے پر کام کرنے والے نسیم اشرف اور مشہور معروف ٹی وی چینلز سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو اسرائیل دورہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے نظریاتی استحکام کے خلاف سازش کا حصہ ہے۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے تمام شہریوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے جو ماضی اور حال میں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں اور فلسطینی عوام کے قاتل صدر اور عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل پاکستانی صحافیوں کا اسرائیل جانا قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد اور افکار کی توہین کے مترادف ہے۔


































