
بیجنگ : چین کے سرکردہ تھنک ٹینک ’’تائی ہے انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے سینئر محقق وانگ زائی بینگ نے کہا ہے کہ امریکا نے سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی مارکیٹ اکانومی کے بڑے اصولوں کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور اب وہ عالمی سیاسی اور معاشی نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکا کے تمام اتحادی حالیہ برسوں کے دوران امریکا کے اقدامات اور اس کے رویے سے غیر مطمئن ہو چکے ہیں، آج کا امریکا ناقابل بھروسہ اور غیر مستحکم ملک بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور چین کے درمیان باہمی مذاکرات میں حالیہ عرصہ میں تیزی آئی ہے اور اب تیل کے سودے چینی کرنسی میں کرنے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو اس کے تیل کے شعبے میں چین سعودی تعاون کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی تعلقات اور پورے مالیاتی نظام پر اثرات مرتب ہوں گے۔ وانگ زائی بینگ کا کہنا تھا کہ امریکی ڈالر ایک بلیک ہول بن چکا ہے جو کسی بھی وقت کئی ملکوں اور کئی افراد کی دولت کو تباہ کر دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے لیکن ایسی ٹھوس وجوہات نظر نہیں آتیں کہ امریکی کرنسی عالمی سطح پر اپنا غلبہ برقرار رکھ پائے گی۔


































