
ابوظہبی : متحدہ عرب امارات نے سعودی زیر قیادت نئے دفاعی فریم ورک کا حصہ بننے کے بجائے اسرائیل، یونان اور قبرص پر مشتمل اسٹریٹجک و فوجی نیٹ ورک سے اپنے مفادات جوڑ لئے۔ سنّا فائلز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے یونان کے ساتھ دفاعی تعاون میں تیزی پیدا کی ہے، جبکہ قبرص کے ساتھ دفاع، سکیورٹی، توانائی اور بحری نقل و حمل سمیت وسیع اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھی ہے۔ متحدہ عرب امارات اس تعاون کے ذریعے مشرقی بحیرۂ روم تک اپنی اسٹریٹجک رسائی بڑھا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ تعاون سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کے لیے ممکنہ توازن کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت بھی ممکنہ طور پر اس ابھرتے ہوئے نیٹ ورک میں ایک اضافی کڑی بن سکتا ہے، جس سے جنوبی ایشیا سے مشرقی بحیرۂ روم تک ایک وسیع جغرافیائی، اقتصادی اور دفاعی راہداری کی شکل بن سکتی ہے۔


































