
تہران: آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے تازہ ترین فتوی میں کہا ہے کہ کسی بھی حکومت یا فرد کی جانب سے آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای پر حملہ یا دھمکی اللہ اور رسول کے خلاف اعلان جنگ کے حکم میں ہے۔ مقلدین کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا گیا تھا کہ رہبر انقلاب کو قتل کی دھمکی دشمن کی تجزیاتی غلطی کا نتیجہ ہے۔ اس میں انہوں نے دینی مرجعیت کی انقلابی اور عوامی توانائی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس بات کو سمجھنے میں کوتاہی کی ہے کہ مرجعیت اسلامی، استکباری نظام کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور اسے نابودی کے دہانے تک پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اور بین الاقوامی صہیونیت اس سنگین غلطی کے ذریعے اسلام کی سب سے اہم، بے مثال اور قیمتی متاع کو نشانہ بناچکی ہیں۔ اگر اسلامی محاذ کی طرف سے جوابی اقدام نہ کیا جائے تو ان کی تنبیہ ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے دشمنوں نے زمانہ معاصر میں فتوی کی طاقت اور اس کے عملی اثرات کو بخوبی سمجھا ہے۔ چاہے وہ میرزا شیرازی کا تمباکو کی حرمت کا فتویٰ ہو یا امام خمینیؒ کی جانب سے مرتد سلمان رشدی کے قتل کا حکم۔ اگر یہ تاریخی فتویٰ جاری نہ ہوا ہوتا تو گزشتہ تین دہائیوں میں استکباری میڈیا کی جانب سے رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں توہین کے واقعات کہیں زیادہ اور مسلسل ہوتے۔


































