
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
اگر کل تک فلسطین کی جنگ صرف غزہ پٹی میں صیہونی قابض افواج اور حماس تک محدود تھی تو اب اس میں حزب اللہ اور انصاراللہ بھی شامل ہوچکے ہیں۔ شمالی فلسطین میں حزب اللہ لبنان، جنگ کی دوسری قوت کے طور پر سامنے آئی ہے اور حزب اللہ اور صیہونی حکومت کے درمیان کئی جھڑپوں کی خبرین بھی سامنے آچکی ہیں۔ اب فلسطین کے تنازع میں ایک نئے کھلاڑی کی آمد دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ تیسری مزاحمتی قوت یمن کے مجاہدین ہیں، جو باقاعدہ طریقے سے میدان جنگ میں داخل ہوچکے ہیں۔ نئے عامل اور تیسری مزاحمتی قوت جزیرہ نما عرب کے جنوب اور یمن سے غزہ جنگ میں داخل ہوئی ہے۔
گذشتہ دنوں یمنی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک سرکاری اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ وہ صیہونی حکومت کے ٹھکانوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا رہے ہیں اور انہوں نے کم از کم تین بار صیہونی حکومت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ گذشتہ ہفتے، یحیی سریع نے واضح طور پر اعلان کیا کہ یمن نے صیہونی حکومت کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔ یمنی فوج کے ترجمان کے بعد اس ملک کے وزیراعظم نے بھی اس بات پر تاکید کی کہ جغرافیائی فاصلہ یمن کی فلسطین کی امداد میں رکاوٹ نہیں ہے اور یمن کی انصار اللہ نے صیہونی اہداف پر حملے کے لیے ملکی فوج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایلات سے دیمونا تک، یمنی میزائلوں کی پہنچ
اس حقیقت کے علاوہ کہ یمنیوں نے گذشتہ ہفتے میں کم از کم تین بار صیہونی حکومت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، صیہونی حکومت کے جنوبی ترین مقام پر واقع ایلات بندرگاہ پر ایک اور راکٹ داغے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایلات غزہ کے محاذ جنگ اور شمال میں لبنان کی سرحد سے بہت دور ہے اور اسے نسبتاً محفوظ علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن غزہ کی جنگ میں یمن کے داخلے نے ایلات بندرگاہ کی صورتحال کو غیر مستحکم اور غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ایلات سیاحت کا مرکز اور صیہونی حکومت میں ساز و سامان کے داخلے کے لیے اہم بندرگاہ ہے، اس بندرگاہ کے عدم تحفظ کے صیہونی ریاست پر بہت زیادہ اقتصادی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب یمنی افواج نے نہ صرف ایلات بلکہ دیمونا جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے۔ اس صورت حال میں صیہونیوں کے لیے دیمونا کی جوہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے ایک نیا خوف اور ہراس پیدا ہو جائے گا۔ گذشتہ روز بعض ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی انصار اللہ نے دیمونا کی ایٹمی تنصیبات کو بمباری اور نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور یہ دھمکیاں بلاشبہ صیہونی حکومت کی ایٹمی تنصیبات کو غیر مستحکم کر دیں گی۔
مزاحمت کی تیسری قوت کے غزہ جنگ میں داخلے کی اہمیت
فلسطین کی جنگ کے منظر نامے میں مزاحمت کی تیسری قوت کے طور پر یمن کا داخل ہونا اس جنگ کی قسمت میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوگا۔
یمنی میزائل اور ڈرونز: یمنی فورسز اور انصار اللہ کے پاس جدید میزائل اور ڈرون ہیں۔ اس سے قبل سعودی عرب کی جارحیت کے دوران انصار اللہ نے سعودی عرب میں تیل کے اہداف حتیٰ کہ متحدہ عرب امارات میں ایک ہزار کلومیٹر تک کے بعض اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا۔ انصار اللہ کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اب مقبوضہ فلسطین کے مقامات کو آسانی سے نشانہ بنانے کے قابل ہیں۔ اس سال غالباً دو ماہ قبل، اپنے عوامی انقلاب کی نویں سالگرہ کی خصوصی پریڈ کے دوران، یمنیوں نے بہت سارے ہتھیاروں اور بہت سے نئے اور حیران کن میزائل ہتھیاروں کی نمائش کی، جس نے بہت سے غیر ملکی فوجی ماہرین کو حیران کر دیا تھا۔
دو ماہ قبل یمنی فوج کی پریڈ کا سب سے بڑا سرپرائز ایک ایسے میزائل کی رونمائی تھی، جس کا نام طوفان ہے۔ طوفان میزائل دیگر یمنی میزائلوں سے منفرد اور طول و عرض اور رینج کے لحاظ سے مختلف بتایا گیا ہے۔ طوفان میزائل کی رینج 2000 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور میزائل کی رینج کو دیکھتے ہوئے آخری مرحلے میں اس کے اثرات کی رفتار ممکنہ طور پر Mach10 سے زیادہ ہوگی، جو کہ پیٹریاٹ جیسے کئی دفاعی نظاموں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ ایلات کی بندرگاہ اور یمن کی سرحدوں کے درمیان فاصلہ 2 ہزار کلومیٹر سے بھی کم ہے اور حکمت عملی کے لحاظ سے یمنی فوج صیہونی حکومت کی اہم ترین اقتصادی اور سیاحتی بندرگاہ کو اپنے بیلسٹک میزائلوں سے آسانی سے نشانہ بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
جنگ تین محاذوں پر
اب تک فلسطینی جنگ کے دوران زیادہ تر جھڑپیں غزہ پٹی اور مقبوضہ فلسطین کے شمال میں لبنان کی سرحد پر رہی ہیں۔ تیسری مزاحمتی قوت کے طور پر یمن کی آمد نے صیہونی حکومت کے جنوبی علاقوں کو یمنی میزائلوں کے نشانے پر رکھ دیا ہے۔ گویا اس وقت مقبوضہ فلسطین کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے۔ صیہونی حکومت کے جنوبی علاقوں میں تیسرا محاذ کھولنے کی وجہ سے صیہونی حکومت کی فوج کی فوجی اور جنگی ہتھیاروں کی طاقت کا ایک حصہ جنوبی صوبوں کی طرف چلا جائے گا اور اس کے نتیجے میں، غزہ پٹی پر دباؤ کم ہو جائے گا۔ یمن کے جنگ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ممکنہ طور پر صہیونیوں کو اپنی جنگی حکمت عملی کو تبدیل کرنا پڑے گا، جس کا منطقی نتیجہ حملہ آوروں کی جانب سے خود ساختہ پیشین گوئیوں اور منظرناموں سے بہت مختلف ہوگا۔


































