Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

سویداء معاہدہ: دروزیوں کی خاموش فتح یا شام کی خودمختاری کا خاتمہ؟

Oplus_16777216

تحریر: عرض محمد سنجرانی

شام کے جنوب میں واقع سویداء کا علاقہ، جو طویل عرصے سے دروزی برادری کا ثقافتی، مذہبی اور سیاسی گڑھ رہا ہے، آج ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ برسوں سے جاری ریاستی جبر، بدو جنگجوؤں کے حملے، معاشی زوال اور علاقائی تنہائی کے بعد آخرکار سویداء کے دروزیوں اور شامی حکومت کے درمیان ایک متنازع مگر اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ بظاہر ایک وقتی جنگ بندی ہے، مگر درحقیقت اس کے اثرات شام کی وحدت، خودمختاری اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاسی ترتیب پر نہایت گہرے اور دور رس ہوں گے۔

معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ شامی حکومت سویداء میں اپنی عسکری اور انتظامی عملداری ختم کر دے گی اور مقامی خودمختاری کا ایک غیر اعلانیہ تصور تسلیم کر لے گی۔ اس کے بدلے دروزی قیادت شام کے خلاف مسلح مزاحمت ختم کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ دروزی ملیشیاؤں، خصوصاً "رجال الکرامہ” جیسے مقامی گروہوں کو نہ صرف قانونی تحفظ دیا گیا ہے بلکہ سیکیورٹی اور سول معاملات میں انہیں فیصلہ کن حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شام کا ایک مکمل صوبہ اب عملاً ایک نیم خودمختار زون میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں حکومتی پرچم تو لہرا سکتا ہے، مگر اس کے پیچھے طاقت کا کوئی ادارہ موجود نہیں۔

یہ صورتحال شامی ریاست کے لیے بلاشبہ ایک تذلیل آمیز پسپائی ہے۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی داخلی خانہ جنگی، معاشی ابتری، بین الاقوامی پابندیوں اور خارجی مداخلت کا شکار ہے، اب اس کے ایک اہم صوبے پر اس کی عملداری محض کاغذی حیثیت تک محدود ہو گئی ہے۔ شامی حکومت کا طویل المیعاد استحکام ایسے غیر رسمی معاہدوں کے تسلسل سے مزید مشکوک ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اور اہم جہت وہ بیانیہ ہے جو دروزی قیادت نے پیش کیا، یعنی یہ کہ سویداء میں بدو جنگجو، جنہوں نے کئی بار شہری آبادی پر حملے کیے، دراصل شامی فوج یا انٹیلیجنس کی پراکسی فورسز تھے۔

ان حملوں کا مقصد دروزیوں کو خوف زدہ کرنا، ان کی تحریک کو بدنام کرنا اور مزاحمت کو مجرمانہ رنگ دینا تھا۔ اگرچہ شامی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی، مگر آزاد ذرائع اور بعض بین الاقوامی مبصرین نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر جھٹلایا بھی نہیں۔ یوں حکومت کی جانب سے دروزیوں کو لاحق خطرے کو خود ہی تشکیل دینا اور پھر اس خطرے کے خلاف معاہدہ کرنا دراصل ایک "ڈیل بایو ڈیزائن” (Deal by Design) ہے جس کا مقصد بین الاقوامی منظرنامے پر وقتی سکون حاصل کرنا ہے۔

معاہدے کے ایک اور اہم پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ہے دروزیوں کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی قربت۔ اسرائیل کے اندر موجود دروزی برادری، جو عرصہ دراز سے فوج، انٹیلی جنس اور سول اداروں میں فعال ہے، سویداء کے دروزیوں کے لیے ایک نظریاتی اور عملی پشت پناہ بن چکی ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں اس معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا اور "انسانی ہمدردی” کے نام پر مستقبل میں تعاون کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں۔ دروزی قیادت بھی اس وقت اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اتحادی تلاش کر رہی ہے اور اس میں اسرائیل کو دور رکھنا شاید اب ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

ایسے میں سابقہ اسد حکومت اور اس کے اتحادی ایران کے لیے یہ ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ وہ خطہ جہاں پہلے اسرائیل سے براہ راست زمینی خطرہ صرف گولان کی پہاڑیوں تک محدود تھا، اب ایک نیا، نیم خودمختار، اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا زون بن چکا ہے، جو براہ راست دمشق کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔ یہ سب کچھ دروزیوں کو ایک نئی طاقت، نئی حیثیت اور نئی شناخت دے رہا ہے۔ وہ اب محض شام، لبنان یا اسرائیل میں بکھری ہوئی اقلیت نہیں رہے، بلکہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک ایسا طاقتور گروہ بنتے جا رہے ہیں جو توازن کو جھکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لبنان میں دروزی رہنما ولید جنبلاط، اسرائیل میں دروزی آئی ڈی ایف افسران، اور اب شام میں نیم خودمختار سویداء۔ یہ ایک ایسا "علاقائی دروزی محور” بنتا جا رہا ہے جسے عالمی طاقتیں بھی اب نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ شامی حکومت اس صورتحال کو وقتی مفاہمت کے طور پر پیش کرے گی، مگر درحقیقت یہ اس کی ریاستی کمزوری کا اعتراف ہے۔ معاہدے کی روح یہ ہے کہ طاقت کا مرکز اب دمشق سے نکل کر مقامی برادریوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جو کہ کسی بھی مرکزی حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر درعا، دیر الزور، یا الحسکہ جیسے علاقوں میں بھی یہی ماڈل نافذ ہو جائے، تو شام کی وحدت کا تصور محض ایک نظریاتی نعرہ رہ جائے گا۔

آنے والے دنوں میں دروزیوں کی یہ خاموش فتح مشرق وسطیٰ میں کئی نئی صف بندیاں پیدا کرے گی۔ ایران، اسرائیل، ترکی، اور امریکہ، ہر ایک کی پالیسی میں سویداء کا ذکر اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ شام نے دروزیوں سے صلح کر لی، اصل سوال یہ ہے کہ شام نے ان کی خودمختاری تسلیم کرکے اپنے وجود کو کہاں تک مجروح کر دیا؟ معاہدہ اگرچہ خونریزی کے خاتمے کا پیغام ہے لیکن اس کے بطن میں ایک خفیہ پیغام بھی ہے، جب ریاستیں کمزور ہوتی ہیں، تو اقلیتیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ سویداء کی خاموش فتح دروزیوں کے لیے امید، مگر شام کے لیے سوال بن گئی ہے۔ یہ سوال کہ ریاست کس قیمت پر امن خریدتی ہے؟ اور کیا وہ قیمت، اس کے وجود سے بھی زیادہ نہیں؟

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular