
اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اشتعال انگیز تقاریر کے بعد دھرنا ختم کردیا۔ حکمراں اتحاد پی ڈی ایم نے سرکاری سرپرستی میں دفعہ 144 کے باوجود اسلام آباد کے ریڈ زون میں دھرنا دیا اور احتجاج کیا۔ ڈنڈا بردار سینکڑوں افراد انتہائی سیکیورٹی والے ریڈزون میں دندناتے رہے اور پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز خاموش تماشائی بنی رہیں۔ جمیعت علما اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھمکی دی کہ عدالتی وقار کے لیے چند ججز کو قربان کردیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ عوام کریں گے، جانبدار جج اپنی حیثیت کو مجروح کرچکا ہے۔ معزز کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو پارلیمنٹ اور عوام کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی تباہی بھی ججوں کے فیصلوں سے ہوئی ہے۔ آج عمران خان کی سہولت کاری کرنے والوں کی بات ہوگی، قانون سازی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے اس کو روکنا تمہاری ذمہ داری نہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ اس ملک میں 4 بار جمہوریت پر شب خون مارا گیا، کیا عدالت نے کسی آمر کو گھر بھیجا؟ 4-3 کے فیصلے کو 3-2 میں بدل دیا گیا، ہم اقلیتی فیصلے کو نہیں مانتے۔


































