
تہران: ایرانی عبوری وزیرخارجہ علی باقری کنی نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کے دوران امریکہ اور یورپی ممالک کے جانبدارانہ اور منافقانہ رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے اردن کے وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ تہران ہمسایہ اور مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ رہبر معظم کی حکمت عملی کے مطابق ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید اسماعیل ہنیہ پر صیہونی حکومت کا حملہ ایرانی حاکمیت کی پامالی اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ ایران صیہونی حکومت کو دندان شکن جواب دے گا۔ سلووینیا کی خاتون وزیر خارجہ سے ٹیلفونک گفتگو کرتے ہوئے علی باقری نے کہا کہ صیہونی حکومت کی حالیہ دہشت گردی پر یورپی ممالک کی خاموشی اور اقوام متحدہ سے مذمتی بیان جاری کرنے میں رکاوٹ ڈالنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کوئی شک نہیں کہ ایران اپنی حاکمیت اور خودمختاری پر حملے کا جواب دے گا اور صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں ایسے اقدامات کرے گا جس کے بعد صیہونی حکومت کی عقل ٹھکانے آجائے گی۔


































