
غزہ : حماس نے نئی جنگ بندی تجویز کو پرانی ناقابل قبول تجاویز کا تسلسل قرار دے دیا۔ حماس کے ترجمان کے مطابق قیام امن کیلئے صدر بائیڈن کی تجاویز پر مثبت غور کے لیے تیار ہیں۔حماس نے ہمیشہ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا ہے اگر مکمل جنگ بندی کی گارنٹی دی جاتی ہے اور غزہ میں دربدر ہونے والوں کو ان کے گھروں میں واپسی کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ جنگ بندی پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔حماس کے جاری اعلامیے کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی مستقل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے ٹائم فریم سے مشروط ہے۔ حماس شہدا کے لہو کا سودا نہیں کرے گی۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ نئی جنگ بندی تجویز کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں ہے۔ اسرائیل مکمل امن چاہتا ہے اور یہ حماس کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ہم ایسا غزہ دیکھنا چاہتے ہیں جہاں حماس نہ دوبارہ طاقت حاصل کرسکے نہ حکومت سنبھال سکے۔ اپنے اہداف کے حصول سے قبل غزہ میں مکمل جنگ بندی ناممکن ہے۔


































