
لندن : برطانیہ میں مسلمانوں کا احتجاج رنگ لے آیا۔ حکومت نے نو سال سے کم عمر بچوں کو ریلیشن شپ۔ سکیس اور ہیلتھ ایجوکیشن کی تعلیم دینے پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق پانچویں جماعت سے پہلے اسکولوں میں جنسی تعلیم نہیں پڑھائی جائے گی اور بعد میں بھی اس کی تدریس محض سائنسی نقطہ نظر سے ہوگی۔ نئی پالیسی کے تحت بچوں کو دی جانیوالی جنسی تعلیم کا مواد والدین کو دیکھنے کا حق ہوگا اور کسی بھی صورت بچوں کو ان مسائل سے متعارف نہیں کرایا جائے گا جنہیں سمجھنے کی ان کی عمر نہ ہو۔ اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کے مواد پر مسلمان والدین سخت اضطراب میں تھے اور انہوں نے اس فیصلے کیخلاف انگلینڈ کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی کیاتھا۔
گزشتہ سال کنزرویٹو پارٹی کے پچاس ارکان پارلیمنٹ نے بھی وزیراعظم کے نام مشترکہ خط میں سخت تشویش اور عدم اطمینان کا اظہارکیا تھا۔ وزیراعظم رشی سناک نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجتے وقت بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ وہ وہاں پر محفوظ رہیں گے اور انہیں غیرمناسب باتیں نہیں بتائی جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال کلاسوں میں ہونے والے واقعات سے متعلق رپورٹوں نے مجھے پریشان کردیا تھا۔


































