
تحریر: سید اسد عباس
مسئلہ فلسطین پر مسلمہ امہ کے موقف اور اقدامات کی صورتحال سے آپ مجھ سے بہتر طور پر آگاہ ہیں۔ مسلمان عوام فلسطینیوں کے غم میں ہلکان ہیں مگر بے بس ہیں۔ مسلم حکمران خوفزدہ ہیں اور بے حسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ مکمل طور پر فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے سے قاصر ہیں، تاہم ان کی یہ دلیل بالکل درست ہے کہ خاموش بیٹھنا بھی تو کوئی حل نہیں۔ خواہ ہم ظلم کو روک نہ سکیں، اسے برا تو کہتے رہیں۔ حدیث رسول ؐ میں بھی مسلمانوں کو اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: "جہاں بھی ظلم ہوتا دیکھو، اگر ممکن ہو تو اس کو ہاتھ سے روکو، اگر ظلم کو روکنے کی استطاعت نہ ہو تو اس کے خلاف بات کرو، اگر بات بھی نہ کرسکتے ہو تو اسے دل میں برا جانو۔” مسلم امہ فلسطین کے معاملے میں اس حدیث پر پورے طور پر عمل پیرا ہے، تاہم کوئی بھی اس ظلم کو مکمل طور پر روکنے کے قابل نہیں ہے۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی مسلمان اتنے ہی کمزور ہیں کہ اپنے خلاف ہونے والے ظلم کو نہ روک سکیں۔ اگر کمزوری ہے تو کس میدان میں ہے۔
57 اسلامی ممالک میں تقریباً دو ارب مسلمان آباد ہیں، جو دنیا کی آبادی کا 24.1 فیصد بنتے ہیں۔ مسلمان افواج کی تعداد تقریباً اسی لاکھ کے قریب ہے، اگرچہ یہ فقط ایک اندازہ ہے، اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے، ممکن ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔ 2013ء کے ایک سروے کے مطابق او آئی سی کے 51 اکثریتی مسلم ممالک کا جی ڈی پی 12.97 ٹرلین ڈالر تھا، جو دنیا کے جی ڈی پی کا 8 فیصد بنتا ہے، جبکہ او آئی سی کے 57 ممالک کا مشترکہ جی ڈی پی 23.94 ٹرلین ڈالر تھا۔ تیل کے ذخائر کے حوالے سے خدا نے مسلمانوں کو خوب نوازا ہے، یہ پگھلا ہوا سیاہ سونا مسلمانوں کے پاس اتنا ہے کہ باقی دنیا فقط 25 فیصد کی مالک ہے، یعنی مسلمانوں کے پاس تیل اور گیس کی 75 فیصد دولت موجود ہے۔
تیل کی برآمد سے ہونے والی آمدنی متعدد مسلم ممالک کی جی ڈی پی کا بڑا حصہ ہے، 2018ء میں سب سے زیادہ 237 بلین ڈالر سعودی عرب کی آمدنی تھی، اس کے بعد عراق (91 بلین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (74 بلین ڈالر)، ایران (67 بلین ڈالر)، کویت (61 بلین ڈالر)، نائجیریا (42 بلین ڈالر)، قازقستان (37 بلین ڈالر)، الجیریا (30 بلین ڈالر)، قطر (25 بلین ڈالر)، آذربائیجان (16 بلین ڈالر)، ملائیشیا (10 بلین ڈالر)، انڈونیشیا (5 بلین ڈالر) اور بحرین (4 بلین ڈالر) تھی۔ مسلم ممالک معدنی ذخائر، زرعی مصنوعات میں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ انسانوں کی اتنی بڑی اور وسائل سے مالا مال آبادی جس میں وجہ اشتراک دین و مذہب ہو، وہ دین جو تمام مسلمانوں کو ایک جسد واحد قرار دیتا ہے۔ وہ دین جو ہر مظلوم کی مدد کا حکم دیتا ہے، ہر ظالم کے خلاف قیام کا حکم دیتا ہے، ان کے ہی ایک حصے پر مسلسل بمباری ہو رہی ہو تو اس کی یقیناً کچھ وجوہات ہیں۔
راقم کی نظر میں اس کی سب سے بڑی وجہ اسلامی معاشرے کی بالعموم اسلامی تعلیمات سے دوری ہے، خدا اور روز حشر پر ایمان کی کمی ہے۔ اہل یمن کمزور ہیں، وسائل کی کمی ہے، تاہم جب سے اہل فلسطین پر حملوں کا آغاز ہوا ہے، اس روز سے یمنی اسرائیل کو جواب دے رہے ہیں۔ بحر احمر میں اسرائیلی اور امریکی کشتیوں پر حملہ آور ہیں، تل ابیب پر بیلسٹک میزائل برسا رہے ہیں، کیونکہ وہ واقعاً اہل اسلام کو جسد واحد سمجھتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ہم سے روز حشر سوال کیا جائے گا کہ تم نے اہل فلسطین کی مدد کے لیے کیا اقدام کیا۔ اہل یمن کو اپنی عاقبت کی فکر ہے اور باقی عرب اپنی دنیا سنوارنے کے درپے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا دشمن اسرائیل نیز امریکہ اور اس کے حواری عسکری طاقت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمانوں پر برتری رکھتے ہیں۔ یہ ممالک دنیا کی اقتصادیات کو کنڑول کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طاقت کا مقابلہ کوئی ایک اسلامی ملک تن تنہاء نہیں کرسکتا، اس کا واحد حل مسلم ریاستی اتحاد تھا۔
اگر او آئی سی کے رکن 57 ممالک یہ عزم کرلیں کہ ہم نے فلسطینیوں پر ظلم کرنے والوں، ان کی مدد کرنے والوں، حمایت کرنے والوں سے تعلقات نہیں رکھنے تو مجھے یقین ہے کہ آج جس وقت راقم یہ کالم تحریر کر رہا ہے، غزہ پر بمباری ہمیشہ کے لیے رک جائے گی۔ مسلمانوں کی بے بسی یہ ہے کہ اتحاد ریاستوں کے حکمرانوں نے کرنا ہے۔ آج مسلم دنیا پر ایسے حکمران مسلط ہیں، جن کو اسلام اور مسلم عوام سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں۔ ان حکمرانوں سے چھٹکارا اور حقیقی دین دار قیادت کا چناؤ مسلم عوام کی ذمہ داری ہے، جبکہ عوام بھی اپنی دنیا اور آج کو سنوارنے کی فکر میں ہے۔ یہ تنگ نظری، لادینیت، سستی، کاہلی، اسلام سے دوری اور تعصب مسلمانوں کے حقیقی دشمن ہیں۔ اگر مسلمان عوام اور قیادت ان مسائل پر قابو پا لیں تو امریکہ یا دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے وسائل پر شب خون نہیں مار سکتی، ہمارے ہی نہیں دنیا میں کسی بھی انسان کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتی۔
اوائل اسلام میں مسلم معاشرے کی تشکیل اور ترتیب کی ذمہ داری رسول اکرم ؐ پر تھی، انھوں نے جو معاشرہ تشکیل دیا، اس نے روم اور فارس کی سلطنتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ امہ کی آج کی حالت کو دیکھ کر واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے کو ایک ایسے مربی کی ضرورت ہے، جو اسے حقیقی اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالے، تبھی جا کر مسلمان دنیا میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔ موجودہ امہ، انسانوں کا ایک ایسا ریوڑ ہے، جس شکل و صورت تو اسلامی ہے، تاہم اس میں اسلامی نظم کا فقدان ہے۔ اس میں شک نہیں کہ امت کو ایک الہیٰ ہادی کی ضرورت ہے۔ ہم اسلامیات پر متعدد تجربات کرچکے ہیں، خلافت، بادشاہت، جمہوریت سب آزمائے جا چکے۔ کوشش یقیناً جاری رہنی جاہیئے، تاہم نتیجہ خیز اقدامات اسی وقت ممکن ہوں گے، جب دین مبین کی تعلیمات عمومی طور پر معاشرے کے رگ و پے میں سرائیت کر جائیں گی۔ خداوند کریم ظہور امام ؑ میں تعجیل فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ان کے پرچم تلے جہاد کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


































