
تہران : ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والا واحد فریق اسرائیل ہے۔ اسماعیل بقائی نے ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ماضی کے تنازعات کو ایک طرف رکھیں اور علاقائی سلامتی مضبوط بنانے اور بیرونی طاقتوں کے کردار کو محدود کرنے کے مقصد سے مذاکرات کریں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان طے شدہ اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ بقائی نے کہا کہ ایران یمنی فریقین کے درمیان طے پانے والے روڈ میپ کی حمایت کرتا ہے اور مسلم ممالک کے درمیان جاری تنازع کو اسرائیل کے علاقائی عدم استحکام کو برقرار رکھنے کے مقصد کے لیے فائدہ مند سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے قیام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے، جس میں دونوں ممالک کے خودمختار حقوق کو مکمل طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ اسماعیل بقائی نے پِک ایکس ماؤنٹین میں سرگرمیوں سے متعلق خدشات کو بلاوجہ کا شو قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں تعمیرات سے متعلق رپورٹس پہلی مرتبہ چھ یا سات سال قبل سامنے آئی تھیں۔ ترجمان نے کہاکہ ایران ایڈیشنل پروٹوکول کا فریق نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے اپنے حفاظتی معاہدے کے تحت تمام ضروری اطلاعات فراہم کی ہیں۔ بقائی نے اس مقام سے متعلق دوبارہ پیدا ہونے والی تشویش کو میڈیا ہائپ قرار دیا۔ بقائی نے ایران کو تنہا کیے جانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دراصل امریکہ کی بین الاقوامی حیثیت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر ایران کے خلاف حملہ کرکے ’’جرم کا ارتکاب‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی اور بین الاقوامی امن کے لیے ضروری اصولوں کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھتا ہے، ایران وہ اقدامات جاری رکھے گا جنہیں وہ ضروری سمجھتا ہے۔


































