
دوحہ : حماس نے جنگ بندی معاہدے میں رکاوٹ کے بلنکن کے الزام کو غیر منصفانہ قرار دیکر مسترد کردیا۔ حماس کے سینیئر رہنما سمیع ابوزہری نے کہا ہےکہ انٹونی بلنکن امریکا کے نہیں بلکہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے طور پر جانے جاتے ہیں ان کا ایسا بیان دینا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ بلنکن کے تبصرے حقیقت سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس پر معاہدے میں تاخیر کا الزام غیر منصفانہ ہے۔ جبکہ اسرائیلی مذاکراتی ٹیم نے تسلیم کیا کہ نیتن یاہو ہی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ تھے۔ اس سے پہلے امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور کہا کہ اس وقت ٹیبل پر بہت مضبوط تجویز موجود ہے۔حماس کو ہاں کہنے کی ضرورت ہے۔ حماس کو مصری تجویز کو قبول کرلینا چاہئے۔ امریکی انتظامیہ تمام یرغمالیوں کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔
اس سے قبل اسرائیلی صدرچاسحاق ہرزوغ سے ملاقات میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بلنکن نے جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حماس گروپ کو مورد الزام ٹھہرایا۔


































