Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

نئے برطانوی وزیراعظم نے بھی امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

لندن: ایران کے خلاف امریکا کو اڈے دینے کی برطانوی پالیسی برقرار، نئے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی امریکا کو ایران کے خلاف دفاعی حملوں کیلئے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔
بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے جنہیں برطانیہ "دفاعی کارروائیاں” قرار دیتا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے بتایا گیا کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایران کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔
پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا۔ رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے۔
اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular