
اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، مسئلہ کشمیر پر مسلسل حمایت پر ایرانی قیادت کے شکر گزار ہیں افغان عوام کو منجمد اثاثوں تک رسائی فراہم کی جانی چاہیے ،پولان گوادر منصوبے کے ذریعے ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی، عالمی برادری کی مسلسل حمایت سے کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اپنی امنگوں کے مطابق حق خود ارادیت حاصل کریں گے،تجارتی اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں موجود وسیع گنجائش کی رکاوٹوں پر قابو پالیں گے، افغان عوام کو منجمد اثاثوں تک رسائی فراہم کی جانی چاہیے، وزیر اعظم نے گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر سید علی محمد حسینی سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے بلوچستان میں جنگلات کی آگ پر قابو پانےکیلئے ایران کی بروقت مدد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ہمارے دونوں ممالک اور عوام کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا ثبوت ہے۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیااور مشترکہ جغرافیہ، مشترکہ ورثے اور عوام سے عوام کے روابط پر مبنی دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔


































