
الحمدللہ ، آج مہدوی عج انقلاب جاری ہے اسکے 43سال ہوگئے یعنی انقلاب mature ہوگیا ہے یعنی انقلاب کے بچے اس وقت جوان ہوگئے ہیں , انقلاب کے بچے وہ تمام حریت پسند تحریکیں ہیں جو لاطینی امریکہ سے لیکر افریقہ تک اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے لیکر مغربی ایشیا یا مشرق وسطی تک اور پھر ایشیا تک پھیلی ہوئی ہیں،
انقلاب کا ثمرہ وہ سوچ ہے جو عالم سامراج کے خلاف جدوجہد کے طور پر موجود ہے وہ مزاحمت ہے جو عالمی سطح پر ظلمُ و ستم کیخلاف ہے انقلاب امام خمینی ایک تہذیب کا نام ہے جو قرآن و عترت سے جنم لیتی ہے اس لئے حدیث ثقلین امام خمینی کے کلام زبان و تحریر میں ہمیشہ دیکھائی دیتی ہے
سلام ہو خمینی بت شکن پر سلام ہو قُم کےسید پر سلام ہو سیاہ علموں پر ابھی سلسلہ جاری ہے علم اب موسوی سیدزادے کے بعد علم حسینی سیدزادے کے ہاتھوں میں ہے جو ان شاءاللہ امام مہدی عج (فرزند فاطمہ) کے سپرد ہوکررہیگا،
اس انقلاب کے الہی، خدائی اور نورانی ہونے کی ایک دلیل یہ ہے اس انقلاب کے بطن مبارک سے شہید قاسم سلیمانی جنم لیتا ہے سیدمقاومت سید حسن نصر اللہ جنم لیتا ہے اور سب سے بڑھکر یمن کے انصار اللہ (انصار امام مہدی عج) جنم لیتے ہیں
نائجیریا (فرزندان بلال حبشی) میں آیت اللہ زکزکی سے لیکر پاکستان کے حقیقی فرزند سیدالشھداء عارف الحسینی سب کا جنم اسی انقلاب کے بطن طاہر سے ہوا ہے
آج کی دنیائے تشیع کے وجود مبارک میں موجود جتنی بھی خوبیاں ہیں وہ اس الہی انقلاب کے سبب ہیں، جتنا دین کی جانب توجہ ،فہم دین بڑھا ہے وہ اس انقلاب کے سبب ہے تو سوچئے کیسے انبیا کا خواب پورا نہ ہوجائے کیسے امام خمینی کا عالم ارواح میں استقبال نہ ہوجائے، کیسے کہا جاسکتا ہے کہ “خدایا اگر یہ گناہ گار ہے تو” امام خمینی پرسکون دل کے ساتھ یعنی نفس مطمئنہ کے ساتھ کیسے اپنے رب سے ملاقات نہ کرے
سلام ہو سید انقلاب سید روح اللہ الموسوی الخمینی پر ، عید سعید انقلاب اسلامی مبارک ہو، اللہ کرے کہ ہم اور آپ اس انقلاب کا عروج عالمی انقلاب مہدودی عج کی بھی زیارت کی توفیق پائیں اور ہوسکے تو اس دولت کریمہ میں ادنی ترین خدمت گزاری (کم ازکم جھاڑو صفائی) کے ہی قابل ٹھہریں
کتب میں پڑھا تھا کہ جب انقلاب اسلامی کی کامیابی کی خبر شہید باقر الصدر قدس سرہ کو ملی تو وہ رات بھر کھلے آسمان تلے تسبیح و تمجید کرتے رہے اور بار بار کہتے تھے کہ آج انبیاء و اولیاء کی دیرینہ آرزو اور خواب پورا ہوگیا……….. واقعا ایسے ہوتے ہیں علی علیہ السلام کے نوکر ، امام خمینی کے انقلاب نے ثابت کردیا کہ
آج بھی ہو جو براہیم کا ایمان پیدا
آگ کرسکتی ہے ؛ انداز گلستان پیدا
دوسری طرف آج بھی بہت سی زبانیں بہت سے عمامے اس انبیا کے خواب کے بارے میں گنگ ہوجاتیں ہیں ، ہمارے پاس اگر رسول اللہ (ص) کی وفات کے بعد کے واقعات نہ ہوتے تو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ؛اس وقت بھی سیدہ کائنات کے دفاع میں مولا علی ع کےحق میں زبانین گنگ ہوگئیں تھیں کیونکہ مفادات عزیز تھے کیونکہ آرام دہ زندگی میں خلل پڑنے کا خطرہ تھا اس لئے ہمارے ایک دوست کہتے تھے آج امام خمینی اور انقلاب حد فاصل ہیں کوفی (ماڈرن) اور کربلائی (ناب) شیعہ کی پہچان کا معیار نورمہدویت کی صبح صادق کا مصداق یہی انقلاب ہے!!
الحمدللہ الذی جعلنا من المتمسکین بولایت المھدویہ والفکر الموسویہ والثورہ الحسینیہ


































