Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پا گیا

اسلام آباد: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے، ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہو گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر ترک صدر طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ شہباز شریف نے مملکتِ سعودی عرب کا دورہ کیا، ولی عہد محمد بن سلمان نے ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا۔
مکہ کے الصفا محل میں مشترکہ سربراہی اجلاس ہوا، جس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات، اخوت اور اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتوں، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے۔
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس سربراہی اجلاس کے دوران سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ممتاز اور برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا، باہمی دلچسپی کے خطے اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزارت خارجہ کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ معاہدہ دفاعی تعاون کے تمام شعبوں میں اشتراک اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی بھی شقیں رکھتا ہے، یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت اور قوت کو مضبوط بنانا ہے۔
اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular