Sat Oct 17, 2026

بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار صدارتی محل پر یمنی فوج کا میزائل حملہ، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کے لیے خطرناک ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نیتن یاہو کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ناوے پلے سعودی ایئرپورٹس پر یمنی حملوں میں 19 افراد ہلاک، 364 زخمی آذربائیجان میں اجلاس، اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران 12 ممالک کا واک آؤٹ پشاور میں المناک سانحہ، اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق

روزانہ کی خبریں

حکومت نے کوشش کی ہے کہ عدالتی رٹ کو شکست دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ان کیسز میں عدالت کے کنسرن ہیں، حکومت نے کوشش کی ہے کہ عدالتی رٹ کو شکست دی جائے، ہم کہتے ہیں کہ سولائزڈ ملک ہے، کورٹ کے آرڈرز کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کو سولائزڈ ثابت نہیں کرتا، آئینی عدالتوں کے خلاف ایک کمپین لانچ کی گئی، یہ عدالتیں قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے لیے بیٹھی ہیں، جو کمپین چلا رہے ہیں کل وہی انہی عدالتوں سے اسی طرح ریلیف لے رہے تھے، ہم ججز ٹاک شوز نہیں کر سکتے وہاں بیٹھ کر دفاع نہیں کر سکتے، ہماری طاقت بار ہے، اٹارنی جنرل صاحب! آپ ہیں، عدالت کی رٹ اس ملک کا وقار ہے، جو کچھ پُر تشدد واقعات ہوئے ان کو کوئی جسٹیفائی نہیں کر رہا، ملک کے لیے اعلیٰ اتھارٹی کے سامنے یہ معاملہ رکھیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ملک آئین کے تحت ہی چلنا ہے، عدالتیں اور تمام آئینی اداروں نے آئین کے اندر رہ کر ہی کام کرنا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور کہا کہ یہ وقت گزر جائے گا لیکن اس کے اثرات ملک پر برقرار رہیں گے، ہم یہاں صرف سروس کے لیے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular