
پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے مطالبے پر فرانس اور اسرائیل میں لفظی گولہ باری۔ایمانوئیل میکرون نے مقامی جریدے فرانس انٹر کو انٹریو میں کہا کہ اولین ترجیح مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ہے اور اس کے لیے غزہ میں لڑنے کے لیے اسلحے کی فراہمی روک دی جائے۔ فرانس کی جانب سے کوئی اسلحہ نہیں بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری ترجیح کشیدگی روکنا ہے، لبنانی عوام کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے اور لبنان دوسرا غزہ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے جنگ بندی کے بار بار مطالبات کے باوجود تنازع جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ میکرون نے کہا کہ ہماری بات کا نہ سنا جانا اسرائیل کی سلامتی کیلئے بھی غلط ہے۔ جنگ نفرت کا سبب بن رہی ہے۔
صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایران کی قیادت میں بربریت کی قوتوں کا مقابلہ کر رہا ہے، تمام مہذب ممالک کو مضبوطی سے اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر میکرون اور دیگر مغربی رہنما اب اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جو شرم کی بات ہے۔


































