
بیروت : روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللّٰہ کے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے پیجر دھماکوں کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خصوصی اجلاس میں دی تھی جس کا مقصد کارروائیوں کو نئے مرحلے میں داخل کرنا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق تائیوان سے خریدے گئے پیجرز کی کھیپ میں اسرائیلی فوج نے دھماکہ خیز مواد چھپایا۔ پیجرز میں لبنان پہنچنے سے پہلے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے پیجرز میں انتہائی تباہ کن کیمیائی اور دھماکا خیز مواد پیٹن نصب کیا۔ مواد پیٹن ٹینک شکن میزائل میں لگایا جا تا ہے۔ بیس گرام تک وزنی بارودی مواد میں کال اور میسج کے ذریعہ دھماکا کیا گیا۔ ترک میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیجر جدید ترین نظام پر میسج بھیجتا ہے مگر ان میں ہیکنگ ممکن ہے۔ ادھر رائیٹرز نیوزایجنسی کے مطابق اے پی نائین ٹو فور ماڈل کے پیجرز تائیوانی کمپنی نے نہیں بلکہ اس کی یورپی کمپنی نے بنائے جسے تائیوان کی فرم کے برانڈ کو استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ پیجرز کے اندر بورڈ لگایا گیا جس میں تین گرام تک دھماکہ خیز مواد موجود تھا اس کا کسی بھی ڈیوائس یا اسکینر سے پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔ تین ہزار پیجرز اس وقت پھٹ گئے جب انہیں ایک کوڈڈ پیغام بھیجا گیا۔


































