Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

اسرائیل کے بعد کا دور!

تحریر: محمد کاظم انبارلویی

1۔ صیہونی حکومت نے ہتھیار ڈالنے کی علامت کے طور پر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر(hands up) اور حماس کی شرائط کو قبول کرتے ہوئے جنگ بندی کو قبول کرلیا۔ صیہونی حکومت کے اس اقدام نے گویا مقبوضہ علاقوں کے اندر اور باہر اسرائیل کے بعد کے دور کا اعلان کر دیا ہے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن عرب اسرائیل جنگوں کے دوران ایک "پیشگی” جنگ کا اعلان تھا، جس کی بنیاد لبنان کی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ نے رکھ دی تھی۔ جنگ بندی کے حالیہ اعلان نے خطے میں ایک طاقتور فوج کے طور پر غاصب اسرائیلی فوج کے ڈیٹرنس دور کے خاتمے کی نشاندہی کر دی ہے۔

2۔ فلسطینی عوام بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس حکومت کے پڑوسی عرب ممالک میں نئی نسل کے ذہنوں میں ایک اہم سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ 1948ء اور 1967ء میں کئی بڑے عرب ممالک کی فوجیں صیہونیوں کے مقابلے میں نہیں ٹھر سکیں اور انہوں نے قدس پر قابض فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی زمینیں گنوائیں، اس نئی نسل کو طوفان الاقصیٰ آپریشن میں ان کے سوالوں کا جواب مل گیا ہے۔ جواب یہ تھا کہ عرب قوم پرستی کی منطق یا بعثی سوشلزم کی منطق اور اردنی طرز کی بادشاہت یا سعودی بادشاہت کی منطق کے ساتھ، ایسی فوج سے لڑنا ممکن نہیں، جسے نیٹو اور پورے مغربی نظام کی فوجی حمایت کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی حکومتوں کی سیاسی حمایت حاصل ہو۔

3۔ جس دن اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ طوفان الاقصیٰ آپریشن کی شاندار کامیابیوں کی خبر پوری دنیا میں پھیلی اور حماس کے قائدین نے شکرانے کے نوافل ادا کئے، یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام کی منطق کے ساتھ اور صحیح قرآنی فکر کے ساتھ اس میدان میں حاضر ہو کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسلام کی منطق جنگ بدر کی منطق ہے۔ جنگ بدر میں دشمن کی افواج اسلام کی قوتوں سے تین گنا زیادہ تھیں اور خدا کی مدد سے اسلام کی فوجیں فتح یاب ہوئیں۔

4۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح شرک کے خلاف ایک واضح دلیل اور توحید و اسلام کی حقانیت کا واضح ثبوت تھی۔ روایت ہے کہ غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی (ع) سے کہا کہ زمین سے ایک مٹھی بھر مٹی اور کنکر لے کر مجھے دے دو! علی (ع) نے ایسا ہی کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر دعا پڑھنے کے بعد انہیں دشمن کی طرف پھینک دیا، وہاں معجزانہ طور پر طوفان آیا، جس سے دشمن کے دل میں دہشت پیدا ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا شروع کی اور فرمایا: "اے اللہ، تو نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے، اسے پورا کرو۔”

اے خدا اگر مسلمانوں کا یہ گروہ مارا جائے تو زمین سے تیری عبادت مٹ جائے گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو کفار و مشرکین کی ایک بڑی تعداد پر فتح دی۔ مجھے یقین ہے کہ "محمد ضیف” جو طوفان الاقصیٰ آپریشن کا ڈیزائنر تھا، جب وہ زمین، فضائی اور سمندری سطح پر قسام بٹالین کی فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو اسے امید تھی کہ خدا اس کی اور اس کے چند ساتھیوں کی ضرور مدد کرے گا، جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا تھا۔

5۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد بار فرمایا ہے: ’’تم سمجھتے ہو کہ دشمن متحد ہیں، لیکن جان لو کہ ان کے دل ایک دوسرے سے دور ہیں اور وہ منقسم ہیں۔‘‘ (حاشر 14) دنیا کی تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی واقعہ ہوا ہو، جب ایک غیر مساوی جنگ میں جہاں القسام بٹالینز جیسی ایک چھوٹی سی تعداد نے دشمن کی جنگی مشین کو 50 دن تک روکے رکھا ہو۔ گویا اس مسلح جنگ میں اسے شکست دے دی۔ وہ مسلح فوج جس کے گوداموں میں نیٹو سمیت دوسرے اداروں کے فوجی اسلحہ کی غیر معمولی مقدار میں موجود ہے۔

6۔ غزہ اور مغربی کنارے میں اسلامی مقاومت و مزاحمت نے اس غیر مساوی جنگ میں بڑی قربانی پیش کی، لیکن دنیا نے فتح کا مشاہدہ کیا۔ تقریباً 15000 شہداء اس وقت خدا کے رسول اور اولیاء اللہ کے ساتھ جنت میں ہیں اور خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔ اسلامی منطق بے شک یہی کہتی ہے۔ لیکن اس منطق کو ان عرب رہنماؤں نے قبول نہیں کیا، جو غاصب اسرائیل کے خلاف قوم پرستی، سوشلزم اور بادشاہت کی منطق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے وہ ناکام رہے۔

غزہ کے لوگ مسلمانوں اور دنیا کے آزاد لوگوں کی مدد سے پہلے سے بہتر جنگ کے کھنڈرات کو دوبارہ تعمیر کرلیں گے اور حماس کی فوج اگلی جنگ کی تیاری کرے گی۔ حماس کی حکومت پہلے سے زیادہ مقبول ہے۔ وہ مضبوطی سے غزہ کے معاملات کا کنٹرول سنبھالے گی اور غزہ کی پٹی کو ایک ناقابل تسخیر قلعے میں تبدیل کر دے گی۔ آج غزہ کے عوام اور پورے مزاحمتی محاذ میں فتح کی تصویر واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے اور صیہونی حکومت اور امریکہ کی ذلت و شکست کا احساس نمایاں ہے۔

7۔ جنگ ختم نہیں ہوئی۔ صیہونی حکومت اب بھی شمال میں حزب اللہ اور جنوب میں انصار اللہ اور عراق اور شام میں مزاحمتی قوتوں کے دباؤ میں ہے اور اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ خطے میں مزاحمتی قوتیں مکمل چوکس ہیں اور حتمی اہداف کے حصول تک محرک رہیں گی۔

8۔ صیہونی حکومت کی شکست روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ صہیونی جنگجو غزہ کے ایک حصے پر بھی قبضہ نہ کرسکے، وہ اتنے بے بس تھے کہ تمام تر فوجی دباؤ کے باوجود ایک قیدی کو بھی رہا نہ کرسکے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ حماس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہ کرسکے اور بات جنگ بندی تک پہنچ گئی، جبکہ حماس کی 85 فیصد فوج اب بھی محفوظ ہے۔

آج حماس دنیا کی مقبول ترین حکومت ہے۔ غزہ کے عوام نے خون کے آخری قطرے تک حماس کا ساتھ دیا۔ آج حماس دنیا کی سب سے جائز حکومت ہے، کیونکہ گذشتہ 50 دنوں میں دنیا کے 5 براعظموں میں لوگ ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور طوفان الاقصیٰ آپریشن کے جواز کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسرائیل کے بعد کا دور خطے اور دنیا میں شاندار ہوگا۔ آج مغربی ایشیاء میں مزاحمت کی طاقت و منطق سب سے زیادہ قبول و مقبول ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular