
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن کی ظاہری اور چھپی چالوں سے ظاہر ہوتا ہےکہ وہ جنگ کے ایک نئے دور کی تلاش میں ہے ، ایرانی افواج نے جنگ بندی کے موقع کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت دوبارہ بحال کی ہے، بڑھتا ہوا اقتصادی دباؤ اور محاصرہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قالیباف نے ایرانی عوام کے نام اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت پر دشمن کو سخت پچھتاوا ہوگا، تقریباً ایک ماہ سے فوجی محاذوں پر جنگ بندی قائم ہے لیکن دشمن کی اعلانیہ اور پوشیدہ نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہےکہ وہ اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ اپنے فوجی مقاصد سے دستبردار نہیں ہوا اور جنگ اور نئی مہم جوئی کے ایک اور مرحلے کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ایک اسٹریٹجک چیلنج میں گرفتار ہے جس کے باعث پیٹرول کی قیمتوں، بانڈز، شرحِ سود اور مہنگائی کے خلاف احتجاج سامنے آ رہے ہیں، امریکی رائے عامہ اور معیشت میں پیدا ہونے والی اسی افراتفری نے امریکی صدر کو دو راستوں کے درمیان تذبذب کا شکار کر دیا ہے، پہلا راستہ جنگ کے خاتمے کو ترجیح دینا اور شکست خوردہ فریق کے طور پر اس کی قیمت ادا کرنا ہے جبکہ دوسرا راستہ جنگ کو دوبارہ شروع کرنا یا بحری ناکہ بندی جاری رکھنا ہے تاکہ ایران کو دباؤ میں لا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایرانی میڈیاکے مطابق باقر قالیباف نےکہا ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے موقع سے بہترین فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فوجی صلاحیتوں کی ازسرِ نو تعمیر کی ہے اور خدا کے فضل اور عوامی حمایت سے آج وہ ایسی تیاری رکھتی ہیں جو دشمن کو حیران کر دے گی اور یقیناً ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت پر اسے پچھتانا پڑے گا۔دشمن کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتا کہ ایرانی قوم کبھی طاقت کے سامنے نہیں جھکتی۔


































