
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ صیہونی دشمن اربعین آپریشن میں نقصانات کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے لیکن آئندہ شب و روز اس آپریشن کے نتائج کو آشکارا کریں گے۔ ہمارے کئی ڈرون طیاروں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے لیکن دشمن نے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دشمن کی باتیں جھوٹ سے بھری ہوئی ہیں۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت جو خود کو اس علاقے کا طاقتور کھلاڑی سمجھتی ہے، اپنی کمزوری چھپانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ نہاریا، عکا اور دیگر علاقوں میں جانی نقصانات ان اسرائیلی میزائلوں سے ہوئے ہیں جو ہمارے میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لئے فائر کئے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ہمارے اسٹریٹیجک میزائلوں کو تباہ کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے کیونکہ ہم نے انہیں استعمال ہی نہیں کیا البتہ ممکن ہے کہ آئندہ ان سے کام لیں۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے جو منصوبہ بندی کی تھی اس پر پوری طرح اور کامیابی کے ساتھ عمل کیا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ کچھ دنوں پہلے ہی ان تمام گھاٹیوں سے اپنے سبھی پن پوائنٹ اور بیلسٹک میزائل ہٹادیئے تھے اور صیہونی دشمن نے جن گھاٹیوں پر بمباری کی وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کا یہ دعویٰ کہ اس نے ہمارے ان بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنایا ہے جو تل ابیب پر حملہ کرنے کے لئے تیار تھے، بالکل جھوٹ ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ڈرون طیاروں کے پلیٹ فارموں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے، ان پر کوئی میزائل یا بم نہیں لگا ہے صرف دو میزائل لانچر دشمن کے حملے کا ہدف بنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میزائل فائر ہونے کے بعد چند لانچر نشانہ بنے اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایسے ہزاروں لانچر موجود ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ دشمن ہمارے آپریشن کے وقت اور اس کی تفصیلات کا پہلے ہی علم ہوجانے کا جھوٹا دعوی کررہا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مجاہدین کی نقل و حرکت سے وہ متوجہ ہوا لیکن اس کے باوجود ہمارے آپریشن کو روکنے میں ناکام رہا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہمارا آج کا جواب ابتدائی ہے، اگر ہمارے آپریشن کا نتیجہ ناکافی ہوا تو ہم فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کا آپریشن مذاکرات میں عرب اور فلسطینی فریق کے لئے مفید واقع ہوسکتا ہے اور صیہونی دشمن اور امریکیوں کے لئے اس کا پیغام واضح ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ فلسطین کے حامی محاذ کو خاموش کرنے کی ہر امید نا امیدی میں تبدیل ہوگی اور ہم نے گیارہ ماہ قبل جو کام شروع کیا ہے دھمکیوں پر کوئی توجہ دیئے بغیر فداکاری کے ساتھ اس کو جاری رکھیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسے لوگ ہیں جو دشمن پر قربان ہونا قبول نہیں کرتے اور کسی کے سامنے سر نہیں جھکاتے اور مظلوم کا خون تلوار پر فتح حاصل کرتا ہے۔ حسن نصر اللّٰہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی کے خلاف ہمارا ردعمل خطے کی کچھ وجوہات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ خطے میں بڑے پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی فوجی نقل و حرکت بھی ایک وجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسے ڈرونز فائر کیے جو اسرائیلی دفاعی نظام کی نظر میں نہ آسکیں۔ ہم نے پہلی بار وادی بقاع کے علاقے سے اسرائیل پر ڈرونز فائر کیے۔ حزب اللّٰہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام ڈرونز کامیابی سے اسرائیل کی حدود میں داخل ہوئے۔ ہم نے دریائے لیطانی کے جنوب اور شمال سے اسرائیل پر ڈرونز فائر کیے۔ ہمارا تل ابیب ایئرپورٹ اور اسرائیلی وزارت دفاع کو نشانہ بنانے کا منصوبہ نہیں تھا۔


































