
واشنگٹن : سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دینے سے امریکا میں سیاسی تقسیم گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کو جرائم کے 34 الزامات میں مجرم قرار دینے پر امریکا کے سیاسی حلقوں نے فوری ردِ عمل ظاہر کیا ہے ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار صدر جو بائیڈن کی مہم نے کہا ہے کہ سابق صدر کیخلاف فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے امریکہ کے عدالتی نظام کی قوت کو ثابت کیا ہے۔ ادھر ٹرمپ کے حامیوں نے الزام لگایا ہے کہ مقدمے کی کارروائی منصفانہ نہیں ہو سکی۔ یہ ایک متنازع جج کا دھاندلی زدہ مقدمہ تھا جو بد عنوان تھا۔ ایوان نمائندگان کے ری پبلیکن اسپیکر مائیک جانسن نے کہا ہے کہ آج امریکی تاریخ کا ایک شرم ناک دن ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ فوجداری مقدمے میں سزا پانے والے پہلے سابق امریکی صدر ہیں۔ نیویارک کی جیوری نے انہیں ہش منی کیس کے تمام چونتیس الزامات میں قصور وار قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کو فلوریڈا، جارجیا اور واشنگٹن میں الگ فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔


































