Sat Oct 17, 2026

یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار صدارتی محل پر یمنی فوج کا میزائل حملہ، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کے لیے خطرناک ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نیتن یاہو کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، ناوے پلے سعودی ایئرپورٹس پر یمنی حملوں میں 19 افراد ہلاک، 364 زخمی پشاور میں المناک سانحہ، اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق آذربائیجان میں اجلاس، اسرائیلی صدر کی تقریر کے دوران 12 ممالک کا واک آؤٹ ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ

روزانہ کی خبریں

طفلِ رضیع حضرت علی اصغر علیہ السلام

 

تحریر: سائرہ نقوی

تعارف: اہل بیت علیہم السلام میں باب الحوائج کا لقب پانے والوں میں سب سے کم عمر شخصیت حضرت عبداللہ بن حسین بن علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے۔ آپ خاندانِ نبوت و رسالت کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ رجب سن 60 ہجری میں پیدا ہوئے۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کا نام "علی” بھی رکھا تھا، کیونکہ امام زین العابدین علیہ السلام کے مطابق امام حسین علیہ السلام کو اپنے بابا (علی علیہ السلام) سے بیحد محبت تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہر بیٹے کا نام علی رکھا۔(1) آپؑ کو علی اصغر، طفلِ صغیر، شیر خوار، شش ماہا، باب الحوائج، طفلِ رضیع کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔

والدہ حضرت علی اصغرؑ: آپ کی والدہ محترمہ کا نام جناب رباب بنت امرءالقیس بن عدی بن اوس ہے، جن کا خاندان اہل بیت علیہم السلام سے محبت رکھتا تھا۔ آپ کا شمار اپنے وقت کی بہترین اور افضل ترین خواتین میں ہوتا تھا۔ امام حسین علیہ السلام آپ سے بیحد محبت کرتے تھے اور تاریخ میں امام کی زبانِ مبارک سے آپ کا ذکر کچھ یوں ملتا ہے: "میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں، جس میں سکینہ اور رباب ہوں۔”(2) امام حسین علیہ السلام کی جناب رباب سلام اللہ علیہا سے دو اولادیں تھیں: شہزادی سکینہ اور شہزادہ علی اصغر علیہم السلام۔

شہادت: باب الحوائج حضرت علی اصغر علیہ السلام، واقعہ کربلا کے نمایاں ترین شہداء میں سے ہیں، جنہوں نے تمام شہداء کی قربانیوں پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔ دس محرم الحرام سن 61 ھجری کو جب امام حسین علیہ السلام تمام اصحاب و انصار کی قربانی پیش کرچکے اور خیموں میں عورتوں، بچوں اور امام سجاد علیہ السلام کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا تو امام حسین علیہ السلام نے استغاثہ بلند کیا: "کیا کوئی ہے جو حرمِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرے؟ کیا کوئی توحید پرست ہے، جو ہمارے معاملے میں خدا سے ڈرے؟ کیا کوئی مدد کرنے والا ہے، جو رضائے الہیٰ کے لئے ہماری مدد کو آئے؟ کیا کوئی ناصر و مددگار ہے، جو خدا سے جزا و ثواب کی امید پر ہماری نصرت کرے؟”

امام حسین علیہ السلام کا استغاثہ سن کر خیموں سے عورتوں اور بچوں کی گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ آپ پلٹ کر خیموں کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: "میرے بیٹے علی (اصغر) کو لاؤ، تاکہ اس سے بھی میں وداع ہو لوں۔” وہ بچہ ابھی امام حسین علیہ السلام کی گود ہی میں تھا کہ "حرملہ” نے تیر مار کر اسے شہید کر دیا۔ آپ نے حضرت علی اصغر علیہ السلام کا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف اچھال کر فرمایا: "یہ مصیبت بھی میرے لئے آسان ہے کیونکہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔”(3) گو کہ حضرت علی اصغر علیہ السلام میدانِ جنگ میں ایک مجاہد کی حیثیت سے لڑ نہ سکے، لیکن انہوں نے کربلا میں تمام اصحاب و انصار کے ساتھ مصائب کا سامنا کیا۔ ان کی عمر مبارک صرف چھے ماہ تھی۔

سات سے دس محرم تک قافلہ حسینی پر پانی کی بندش رہی۔ وہ دیگر بچوں کے ہمراہ تین دن تک پیاس برداشت کرتے رہے، لیکن یزید کی فوجِ اشقیا نے ان معصوموں کی پیاس کا خیال نہ کیا۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام کی شہادت نے ضمیرِ انسانی کو جھنجھوڑ ڈالا۔ آج انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بچوں کے حقوق کو باقاعدہ قانون کی شکل دے رکھی ہے۔ تمام دنیا بچوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت کرتی ہے۔ سچ ہے اگر امام حسین علیہ السلام اپنے ششماہے فرزند کی قربانی نہ دیتے تو شاید لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کو فراموش کر دیتے۔

آپ کی قربانی اولوالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا تسلسل ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ اسماعیل اور علی اصغر علیہم السلام کی قربانی میں کیا فرق ہے تو میں یہی کہوں گی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان گاہ میں لے جانے سے پیشتر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن کی رضا پوچھی تھی جبکہ حضرت علی اصغر علیہ السلام نے گلے پر تیر کھانے کے بعد ایک مسکراہٹ سے اپنی رضا کا اعلان کیا۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام کے قتلِ ناحق پر شاعر قاسم شبیر نقوی نصیر آبادی نے عالمِ انسانی سے بڑا پُر درد سوال کیا ہے:
حشر تک سوچ عدلِ انسانی!
صرف اصغر کا خوں بہا کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1۔الملہوف، ص 202
2۔ مقات لالطالبین ص 94
3۔خطبات، فرمودات ومکتوبات حسین ابن علیؑ مدینہ تا کربلا ص 370

 

مزید پڑھیے

Most Popular