
A screen grab taken from video shows damage to the home of U.S. House Speaker Nancy Pelosi after her husband Paul Pelosi was violently assaulted during a break-in at their house in San Francisco, California, U.S., October 28, 2022. KGO TV via ABC via REUTERS.
تحریر: سید رحیم نعمتی
ریاست نیویارک سے ڈیموکریٹ پارٹی کے ایوان نمائندگان امریکہ میں رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کہتے ہیں: "ہم امریکہ میں فاشزم والی فضا سے روبرو ہیں۔” انہوں نے یہ بات معروف ٹی وی پروگرام کرس ہز میں کہی جہاں ان کے ساتھ ریاست میری لینڈ سے ڈیموکریٹ پارٹی کے ایوان نمائندگان میں رکن جمی راسکن بھی موجود تھے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے یہ دونوں اراکین 8 نومبر کے الیکشن، اقتصادی مسائل اور انفرااسٹرکچر کے مسائل جیسے موضوعات کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ امریکی کانگریس میں اس ڈیموکریٹ رکن نے جس فاشزم پر مبنی فضا کی جانب اشارہ کیا تھا اس کی وضاحت روز بروز بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے کی جا سکتی ہے۔ امریکہ میں ایوان نمائندگان کے انتخابات قریب ہیں اور ان دنوں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی کے گھر پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک شدت پسند حامی نے حملہ کیا اور ان کے شوہر پال پلوسی کو شدید زخمی کر ڈالا ہے۔ اس حملے میں پال پلوسی کے سر پر بھی چوٹ آئی ہے جبکہ ان کا ایک بازو بھی ٹوٹ گیا ہے۔ ماہرین اس واقعے کو قریب الوقوع الیکشن سے مربوط قرار دے رہے ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی سیاست پر شدت پسندی کی فضا حکمفرما ہو چکی ہے جو یقیناً الیکشن مہم، باہمی رقابت اور الیکشن کے نتائج پر بھی اثرانداز ہو گی۔ 8 نومبر کو منعقد ہونے والے انتخابات شدت پسندی کی اس فضا سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس رعب و وحشت کی فضا کا ایک اثر ووٹرز پر پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ گذشتہ ہفتے رویٹرز نیوز ایجنسی اور ایپسس تحقیقاتی ادارے کی جانب سے انجام پانے والے مشترکہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر پانچ امریکی ووٹرز میں سے کم از کم دو ووٹر ووٹنگ سنٹرز میں ممکنہ ڈرانے دھمکانے اور دباو ڈالنے جیسے واقعات سے خوفزدہ اور پریشان ہیں۔ وہ اس بابت پریشان ہیں کہ کہیں اس مڈٹرم الیکشن میں ووٹنگ کے دوران انہیں اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے ڈرایا دھمکایا نہ جائے۔ دوسری طرف ووٹ چوری ہونے اور دھاندلی انجام پانے جیسے الزامات منظرعام پر آنے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ ان الزامات کے خوف نے بھی انتہائی منفی اور نامطلوب فضا حکمفرما کر رکھی ہے۔ اس خوف کی شدت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ امریکہ کے گذشتہ انتخابات کے بعد سے اب تک سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھاندلی کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔
گذشتہ دو برس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے صدارتی الیکشن میں دھاندلی کے الزام کا اس قدر تکرار کیا گیا ہے کہ اب وہ دائیں بازو کے سفید فام شدت پسند حامیوں کیلئے ناقابل انکار سچ بن چکا ہے۔ دوسری طرف ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی بعض ایسی شخصیات پائی جاتی ہیں جو ان شدت پسند حامیوں سے ناراضی اور ان کی مخالف دکھائی دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس ایڈم کنزگز ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے: "پال پلوسی پر وحشتناک حملہ ایسے شخص کی جانب سے انجام پایا ہے جو الیکشن سے متعلق سازشی نظریات سے شدید متاثر ہے۔ یہ ایک خطرناک حقیقت ہے کہ میری پارٹی کے ہی بعض اراکین ان نظریات کو فروغ دیتے رہے ہیں۔”
دائیں بازو کے شدت پسند سفید فام عناصر کا ایک نشانہ امریکہ کے سیاہ فام اور لاطینی نژاد شہری ہیں۔ ریپبلکن پارٹی میں شامل سفید فام شدت پسند عناصر اب تک بارہا سیاہ فام شہریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ بعض ماہرین امریکہ پر حکمفرما موجودہ فاشزم والی فضا کی اصل وجہ ان تعصب آمیز نسل پرستانہ قوانین کو قرار دیتے ہیں جو جم کرو قوانین کے نام سے معروف ہیں۔ یہ ایسے قوانین کا ایک مجموعہ ہے جنہیں نوے برس پہلے 1876ء سے 1965ء کے درمیان منظور کیا گیا تھا۔ یہ قوانین سفید فام اور سیاہ فام شہریوں کے درمیان امتیازی رویے پر مبنی ہیں۔ ان قوانین کا اطلاق نوکری، مالی، کھیل، ثقافتی، تعلیمی، علمی اور حتی عمومی جگہوں سے پانی حاصل کرنے جیسے شعبوں پر ہوتا تھا۔ جم کرو قوانین کے باعث سیاہ فام امریکی شہری حتی بنیادی ترین شہری حقوق سے بھی محروم تھے۔
اگرچہ جم کرو قوانین کے خاتمے کو کئی برس گزر چکے ہیں لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ حقیقت میں وہ قوانین اب بھی امریکی معاشرے پر حکمفرما ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست ایریزونا میں رنگین فام ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کا مسئلہ ان دنوں الیکشن سے متعلق ایک اہم ایشو بن چکا ہے۔ گذشتہ ہفتے ایریزونا میں ووٹرز کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی تصاویر شائع ہوئی ہیں جس کے بعد اس ریاست کے حکام نے فیڈرل حکومت کو اس بارے میں تحقیق کرنے کی درخواست دی ہے۔ بعض شواہد کی روشنی میں یوں دکھائی دیتا ہے کہ شدت پسند حلقوں کو حتی عدالتی عہدیداروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ جیسے جج مائیکل ٹی لیبرڈے کا نام لیا جا رہا ہے۔ کورٹز جیسا شخص ایسے حالات سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہتا ہے: "ووٹرز کو یوں ہراساں کیا جانا ہمیں جم کرو قوانین کا زمانہ یاد دلا دیتا ہے۔”


































