
تحریر: علی الحسینی
شیطان بزرگ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے قیام سے لیکر اب تک فلسطینی مظلومین کیخلاف وحشیانہ بربریت میں اضافے کے لیے روز بروز اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر میں حماس کی جانب سے طوفان الاقصیٰ آپریشن نے امریکہ کی ناجئز اولاد کے وجود کو حققیی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے آغاز کیساتھ ہی حزب اللہ، انصار اللہ، حشد الشعبی اور جیش المہدی سمیت خطے میں موجود مقاومتی محاذ کی تمام طاقتوں نے اسرائیل کیخلاف حماس کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی جاری کیے ہیں کہ امریکہ اسرائیلی فورسز کی حمایت سے باز رہے ورنہ پورے خطے کو امریکہ کے لیے قبرستان بنا دیا جائیگا۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیلی فورسز کے تمام دفاعی اور سیکورٹی انتظامات کو ناکام بناتے ہوئے بڑی تعداد میں غاصب فوج، انٹیلی جنس اور پولیس کے افسران کو گرفتار کیا گیا اور چند منٹون میں ہزاروں راکٹ فائر کر کے حفاظتی اقدامات ناکارہ بنا دیئے گئے تو ایک دن کے لیے اسرائیل سے امریکہ تک شیطانی لشکر مبہوت رہا۔ حماس کے سرپرائز اٹیک نے امریکیوں اور اسرائیلیوں کے ہوش اڑا دیئے۔ اب حواس باختہ امریکی حکام کو اسرائیل کی بقا کی فکر ہے اور اسرائیلی فورسز کو غیر انسانی بنیادوں پر مزید مظالم کے لیے ہر قسم کا اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ چند دنوں میں متعدد بار امریکہ نے ظاہری طور پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل جنگ کو محدود رکھے۔ غزہ میں زمینی کاروائی نہ کرے۔ لیکن دو دن سے یہ خبریں مسلسل اا رہی ہیں کہ جنوبی لبنان میں بھی اسرائیل نے گولہ باری شروع کر دی ہے اور غزہ میں زمینی کاروائی شروع کرنیکا عندیہ دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حماس کی کاروائی کے بعد امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت مغربی ممالک کو دلاسہ دیا ہے کہ ان کا تعاون اور سرپرستی اسرائیل کو ھاصل رہے گی۔ کیونکہ یوکرین جنگ میں روس کے خلاف محاذ آرائی کیوجہ سے اسرائیل کو یہ توقع بھی نہیں تھی کہ مغربی طاقتیں اسے پہلے جیسی مدد فراہم کرینگی۔ اب امریکی فوجی ماہرین خود اسرائیل آ رہے ہیں تاکہ وہ براہ راست جنگی کاروائیوں کا حصہ بن سکیں۔ جیسا کہ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے متعدد فوجی مشیر اسرائیل بھیجے ہیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ بہت سے فوجی افسران ہیں جن کے پاس صحیح تجربہ ہے، جس قسم کے تجربے کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ وہ اس قسم کی کارروائیوں سے اچھا تجربہ رکھتے ہیں، جو اسرائیل کر رہا ہے اور جو کچھ مستقبل میں کرنا چاہتا ہے۔
جان کربی نے یہ نہیں بتایا کہ امریکا نے کتنے عسکری مشیر اسرائیل بھیجے ہیں۔ لیکن Axios نیوز ویب سائٹ نے امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے غزہ میں اپنی کارروائی میں اسرائیلی فوج کی قیادت کو مشورہ دینے کے لیے ایک جنرل اور دیگر افسران کو بھیجا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے اسے مطلع کیا کہ امریکی میرین کور کے امریکی جنرل جیمز گلین جنہیں مشاورت کے لیے بھیجا گیا ہے، وہ اس سے قبل میرین کور کی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کی کمان کر چکے ہیں اور عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں، وہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ کرچکے ہیں۔ ویب سائٹ نے وضاحت کی کہ گلین اور دیگر امریکی فوجی اہلکار آپریشنز کا انتظام نہیں کرتے، بلکہ غزہ میں اپنی کارروائیوں کے حوالے سے اسرائیلی فوج کو فوجی مشورے دیں گے، جو ابتدائی طور پر غزہ کی پٹی پر متوقع اسرائیلی زمینی حملے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ویب سائٹ نے بتایا کہ کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو ان تجربات سے آگاہ کیا، جو انہوں نے موصل میں داعش کے خلاف لڑنے سے سیکھے تھے، جبکہ ویب سائٹ نے اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ غزہ پر اسرائیل کے متوقع زمینی حملے کے دوران گلین کے اسرائیل میں رہنے کی توقع نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ چاہتا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگی قوانین کے مطابق فوجی کارروائی کرے، حماس کے نظریات غزہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وائٹ ہاؤس نے مزید کہا تھا کہ حماس جان بوجھ کر شہریوں کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے، وہ اسکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی عمارتوں میں اپنی قیادت کی سہولیات قائم کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ حماس کے نظریات غزہ کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ امریکی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیل نے آج بھی غزہ کی پٹی پر اپنے شدید حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں کئی علاقے ملبے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ امریکی بیانات کے برعکس غزہ کے عوام سالوں سے حماس کی تائید اور اپنے وطن کے دفاع میں بے پناہ بمباری کو برداشت کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ سے حملے کے حملے میں 1400 سے زیادہ اسرائیلی مارے گئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں پانچ ہزار سے زائد افراد مارے گئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، جن میں تقریباً 2000 بچے بھی شامل تھے۔
مشرق وسطیٰ کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کی رائے ہے کہ امریکہ کے لیے گذشتہ ادوار کی طرح اب اسرائیل کی مدد کے لیے اپنی فوجیں اتارنا مشکل ہے۔ جیسا کہ پہلے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے لیکر یورپی یونین، نیٹو اور سعودی و عربی مالی امداد اور سرزمینی امریکہ کو دستیاب رہی ہیں، اب ایسا نہیں ہو پائے گا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، لیکن اہم ترین سبب داعش پروجیکٹ کی ناکامی، یمن میں سعودیہ کی شکست، القاعدہ جیسی اسلام کا چہرہ مسخ کرنے والی دہشت گرد قوتوں کا زوال، اسرائیل کی یوکرین میں امداد، یورپی معیشت کا کمزور ہونا، سعودی عرب کے مالی حالات کا خراب ہونا ہے۔ سب سے اہم پہلو خطے میں مقاومتی محاذ کا ایران، افغانستان، عراق، شام، لبنان، فلسطین، یمن سمیت سیاسی، سفارتی، دفاعی، جنگی، معاشی لحاظ سے مضبوط، قوی، مستحکم، منظم، متحد، فعال اور موثر ہونا ہے۔ اس وقت اصل جنگ حماس کے مجاہدین لڑ رہے ہیں، امریکہ اسرائیل کو حماس کے غضب سے بچانا چاہتا ہے، لیکن اب پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے، عین الاسد پر راکٹ باری، سمندروں میں امریکی بیڑے کی موجودگی کے باوجود یمن سے میزائیلوں کی بارش اور امریکہ و اسرائیل کے عرب اتحادیوں کی بے بسی ایسے عامل ہیں، جو حماس کو تقویت دینگے۔ مدد اصل میں اللہ کی ہے، غزہ کے عوام کا عزم ظاہر کرتا ہے، قدرت فلسطینیوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ امریکی ماہرین کو اسرائیل کی بقا کا سامان کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔


































