
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی بلااشتعال جارحیت نے خود امریکی عوام پر غیر ضروری معاشی بوجھ ڈال دیا ہے۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی عوام کو ایک ایسی جنگ کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے یا اسٹاک مارکیٹ کے دباؤ تک معاملہ محدود نہیں رہے گا بلکہ اصل بحران اس وقت شروع ہو گا جب امریکا کے قومی قرضے اور رہائشی قرضوں کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ عباس عراقچی نے زور دیا کہ اگر امریکا تصادم کی پالیسی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرتا تو اس معاشی بحران سے بچا جا سکتا تھا۔


































