
جنیوا : اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے کہا ہےکہ طالبان نے پابندیاں لگا کر چودہ لاکھ لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر پوری نسل کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا۔ یونیسکو نے طالبان کے اقتدار کے تین سال پورے ہونے پر ایک بیان میں کہا کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ہے۔
بیان میں کہا گیاہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے چودہ لاکھ لڑکیوں کو دانستہ ثانوی تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ یونیسکو نے کہا کہ اگر ہم ان لڑکیوں کو شامل کریں جو پابندیوں کے نفاذ سے پہلے ہی اسکول سے باہر تھیں تو اب افغانستان میں پچیس لاکھ لڑکیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں جو اسکول جانے کی عمر کی 80 فیصد افغان لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یونیسکو نےکہا کہ وہ وسیع پیمانے پر تعلیم سے محرومی کی شرح کے نقصان دہ نتائج سے پریشان ہے جو چائلڈ لیبر اور کم عمری کی شادیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔


































