
کابل: افغانستان میں طالبان حکام نے خواتین اور دیگر امور میں اپنی تشریح کے مطابق سخت اسلامی قوانین نافذ کردئے ہیں۔ طالبان حکام نے اکتیس جولائی کو 35 شقوں پر مشتمل شرعی قوانین کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا تھا جن کی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ آخوند زادہ نے منظوری دے دی ہے۔ قوانین کے تحت خواتین نا محرم کے سامنے چہرے اور جسم کو ڈھانپنے کی پابند ہوں گی۔ مجبوری میں گھر سے نکلنے کی صورت میں خواتین یقینی بنائیں گی کہ ان کی آواز نہ سنی جائے۔ گاڑیوں کے ڈرائیورز محرم کے بغیر خواتین کو نہیں بٹھاسکیں گے۔ مردوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھٹنے سے اوپر تک کی شلواریں نہ پہنیں۔ اپنی داڑھی کو زیادہ چھوٹا نہ تراشیں۔ قوانین کی دوسری شقوں میں۔ ہم جنس پرستی، نماز قضا کرنے، زنا، جوے، جانوروں کو لڑانے یا اپنے والدین کی نافرمانی پر پابندی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر یا فون پر جانداروں کی تصاویر بنانے یا دیکھنے پر بھی پابندی شامل ہوگی۔ قوانین کے تحت میڈیا آؤٹ لیٹس ایسا کوئی مواد شائع نہیں کریں گے جس سے شرعی قانون اور مذہب کی بےحرمتی ہوتی ہو یا جس میں جانداروں کو دکھایا گیا ہو۔ قوانین کی خلاف ورزی پر زبانی انتباہ، جرمانوں ، ایک گھنٹے سے تین دن تک گرفتار رکھا جائے گا۔ جرائم کو دہرانے والوں کو عدالتوں میں بھیجا جائے گا۔


































