
پشاور : خیبر پختونخوا میں شیعہ علماء و اکابرین نے چوتھی جماعت کی اسلامیات میں نکاح خوان اور مدافع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو طالب علیہ اسلام کی تکفیر کی مذمت کرتے ہوئے کتاب کو ضبط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مدرسہ شہید سید عارف الحسینی ،مجلس وحدت مسلمین۔ شیعہ علماء کونسل۔ امامیہ جرگہ،امامیہ کونسل ،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزینش، امامیہ آرگنائزیشن کے نمائندگان نے پشاور پریس کلب میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا ۔ علمائے کرام نے کہا کہ حضرت ابو طالب علیہ السّلام کے ایمان پر بہت سارے شیعہ سنی علماء کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں ٹیکسٹ بک بورڈ کے زیر اہتمام حضرت ابو طالب علیہ السّلام کی تکفیر کرنا سمجھ سے بالاتر ھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلطی نہیں بلکہ جسارت شعوری طور پر کی گئی ھے کیونکہ گزشتہ چند برسوں سے اھلبیت اطہار علیہ السلام کی شان میں گستاخی تسلسل کے ساتھ کی جارہی ہے اور ہر بار عوامی ردعمل آنے کے بعد اسے غلطی قرار دے کر معاملہ رفع دفع کردیا جاتا ہے مگر آج تک ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا نہ ہی کسی کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی جسکی وجہ سے اس طرح کی گستاخانہ غلطیاں ہر سال دیکھنے کو ملتی ہیں ، مقررین نے واضح کیا کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور اکابرین متحد ہوکر ان مذموم سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ مقررین نے واضح کیا کہ اسلامیات کی تمام کتب کو فوری طور پر ضبط کیا جائے اور اس سنگین جرم کے مرتکب افراد کا تعین کرکے انکے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے بصورت دیگر ہم احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے جسکی تمام تر زمہ داری حکومت خیبر پختونخوا پر عائد ہوگی ۔


































