
شام میں جنگ کے بعد صدر بشار الاسد نے عرب ریاست کے پہلے دورے میں ابوظہبی اور دبئی کے حکمرانوں سے ملاقات کی۔
شام میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے آغاز کے بعد سے کسی عرب ملک کا یہ پہلا دورہ ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد نے دبئی میں دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی ہے، شامی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ 2011 میں شام کی جنگ شروع ہونے کے بعد کسی عرب ریاست کا یہ پہلا دورہ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ شامی صدر نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق اسد اور المکتوم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں "دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے دائرے کو بڑھانے کے امکانات پر بات کی گئی، خاص طور پر اقتصادی، سرمایہ کاری اور تجارتی سطحوں پر”۔
متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM نے اطلاع دی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے شام کی علاقائی سالمیت اور ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلاء جیسے "مشترکہ تشویش کے مسائل” پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ دورہ سب سے واضح اشارہ دیتا ہے کہ عرب دنیا کے کچھ ممالک شام کے ایک بار بڑے پیمانے پر دور رہنے والے صدر کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کئی عرب ممالک اسد کے ساتھ تعلقات بحال کر رہے ہیں، جن میں اردن اور لبنان بھی شامل ہیں۔ شام کو 22 رکنی عرب لیگ سے نکال دیا گیا تھا اور اس کے ہمسایہ ممالک نے 11 سال قبل تنازع شروع ہونے کے بعد اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ شامی صدر کے یو اے ای کے دورے سے چند ماہ قبل اماراتی وزیر خارجہ عبد اللہ بن زائد ال نہیان نے دمشق کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں انجام پایا ہے کہ عرب لیگ میں دمشق کی واپسی کا امکان بڑھ گیا ہے۔ شام کے صدر کے یو اے ای کے دورے پر امریکا کی جانب سے منفی رد عمل سامنے آیا ہے۔


































